حدیث نمبر: 35105
٣٥١٠٥ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) (قال: حدثني موسى بن عبيدة) (٢) قال: حدثني محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي، وكان جده من المهاجرين عن أبي هريرة أنه وفد إلى صاحب البحرين قال: فبعث معي بثمانمائة ألف درهم إلى عمر بن الخطاب فقدمت عليه، فقال: ما جئتنا به يا أبا هريرة؟ فقلت: بثمانمائة ألف درهم، فقال: أتدري ما تقول، إنك أعرابي؟ قال: فعددتها عليه بيدي حتى وفيت، قال: فدعا المهاجرين فاستشارهم في المال فاختلفوا عليه، فقال: ارتفعوا عني، حتى إذا كان عند الظهيرة أرسل إليهم، فقال: إني لقيت رجلا من أصحابي (فاستشرته) (٣) فلم ينتشر عليه رأيه فقال: ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ [الحشر: ٧]، فقسمه عمر على كتاب اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی رحمہ اللہ جن کے دادا مہاجرین میں سے تھے یہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ میں بحرین کے حاکم کی خدمت میں وفد لے کر گیا تو اس نے میرے ساتھ آٹھ لاکھ درہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجے۔ میں ان کو لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اے ابوہریرہ : تم کیا چیز لائے ہو ؟ میں نے عرض کیا : آٹھ لاکھ درہم لایا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ یقینا تم تو دیہاتی ہو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اس مال کو شمار کیا، یہاں تک کہ میں نے اس کو پورا کیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کو بلایا اور ان سے مال کے بارے میں مشورہ طلب کیا ۔ ان سب نے مختلف آراء دیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ یہاں تک کہ جب ظہر کا وقت آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قاصد بھیج کر بلایا۔ اور فرمایا : کہ میں اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی سے ملا تو اس کی رائے میں کوئی انتشار نہیں تھا۔ اس نے یہ آیت پڑھی : ترجمہ : جو کچھ پلٹا دے اللہ اپنے رسول کی طرف بستیوں کے لوگوں سے وہ مال اللہ اور اس کے رسول کا ہے۔ اور رسول کے رشتہ داروں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں اور مسافروں کا ہے۔ لہٰذا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے مطابق اس مال کو تقسیم فرما دیا۔

حواشی
(١) في [أ]: (الخباب).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، جـ]: (فاستشرتهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35105
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35105، ترقيم محمد عوامة 33568)