حدیث نمبر: 35104
٣٥١٠٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا موسى بن عُليّ بن رباح عن أبيه أن عمر بن الخطاب خطب الناس في الجابية فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: من أحب أن يسأل عن القرآن فليأت أبي بن كعب، ومن أحب أن يسأل عن الفرائض فليأت زيد بن ثابت، ومن أحب أن يسأل عن الفقه فليأت معاذ بن جبل، ومن أحب أن يسأل عن المال فليأتني، فإن اللَّه جعلني خازنًا وقاسمًا، ألا وإني بادئ بالمهاجرين الأولين، أنا وأصحابي فنعطيهم، ثم بادئ بالأنصار الذين تبوءوا الدار والإيمان فنعطيهم، ثم بادئ بأزواج النبي ﷺ (فنعطيهن) (١)، فمن أسرعت به الهجرة أسرع به العطاء، ومن أبطأ عن الهجرة أبطأ به العطاء، فلا يلومن أحدكم إلا مناخ راحلته (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عُلَی بن رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر لوگوں سے خطاب فرمایا : پس آپ رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمدو ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ وہ قرآن کے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت ابیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے ۔ اور جو چاہتا ہے کہ وہ وراثت کے حصوں کے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے۔ اور جو شخص چاہتا ہے کہ وہ فقہ سے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئے اور جو شخص چاہتا ہے وہ مال سے متعلق پوچھے تو اس کو چاہیے کہ وہ میرے پاس آئے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے خزانچی اور تقسیم کرنے والا بنایا ہے۔ خبردار میں سب سے پہلے مہاجرین اولین سے ابتدا کروں گا۔ میں اور میرے اصحاب ان کو عطایا دیں گے۔ پھر میں انصار سے ابتدا کروں گا جنہوں نے ایمان کو جگہ فراہم کی اور ایمان پر قائم رہے۔ پس میں اور میرے اصحاب ان کو عطایا دیں گے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ابتدا کروں گا اور ان کو عطایا دوں گا۔ اور جس نے ہجرت میں جلدی کی تو عطیہ بھی اس کی طرف جلدی کرے گا ۔ اور جو ہجرت میں سست ہوا تو عطیہ میں بھی سستی ہوگی۔ تم میں کوئی ہرگز ملامت نہیں کرے گا مگر اپنی سواری کے بیٹھنے کی جگہ پر۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (فنعطيهم).
(٢) منقطع؛ علي بن رباح لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35104
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35104، ترقيم محمد عوامة 33567)