مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الفروض وتدوين الدواوين باب: جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
٣٥٠٨٦ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أنس بن مالك وسعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب كتب المهاجرين على خمسة آلاف والأنصار على أربعة آلاف، ومن (لم يشهد) (١) (بدرًا) (٢) من أولاد المهاجرين على أربعة آلاف، وكان منهم أسامة بن زيد ومحمد بن عبد اللَّه بن جحش وعمر بن أبي سلمة وعبد اللَّه بن عمر (فقال) (٣) عبد الرحمن بن عوف: إن عبد اللَّه ليس مثل هؤلاء، إن عبد اللَّه من أمره من أمره فقال عبد اللَّه بن عمر لعمر: إن كان حقا لي (فأعطنيه) (٤)، وإلا فلا تعطنيه، فقال عمر لعبد الرحمن بن عوف: فاكتبني على أربعة آلاف، وعبد اللَّه على خمسة آلاف، واللَّه لا يجتمع أنا وأنت على خمسة آلاف، فقال عبد اللَّه بن عمر: إن كان حقا فأعطنيه، وإلا فلا تعطنيه (٥).حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ دونوں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کے لیے پانچ ہزار مقرر فرمائے اور انصار کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے ۔ اور مہاجرین کی اولاد میں سے جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ان کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے۔ ان میں اسامہ بن زید، محمد بن عبد اللہ بن جحش ، عمر بن ابی سلمہ اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما شامل تھے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان کی طرح نہیں ہیں۔ بیشک عبد اللہ تو ان کے امیر ہیں۔ اس پر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر یہ میرا حق ہے تو آپ رضی اللہ عنہ مجھے ضرور دیں ورنہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے ہرگز مت دیں۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میرے چار ہزار مقرر کردو۔ اور عبد اللہ کے پانچ ہزار مقرر کردو۔ اللہ کی قسم میں اور تو پانچ ہزار پر جمع نہیں ہوسکتے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اگر میرا حق ہے تو مجھے دے دیجئے ورنہ آپ رضی اللہ عنہ مجھے ہرگز مت دیجئے۔