مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الفروض وتدوين الدواوين باب: جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
٣٥٠٨٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن أبي الحويرث أن عمر فرض للعباس سبعة آلاف، ولعائشة وحفصة عشرة آلاف، ولأم سلمة وأم حبيبة وميمونة ⦗٢٩٨⦘ (وسودة) (١) ثمانية آلاف ثمانية آلاف، وفرض لجويرية وصفية ستة آلاف ستة آلاف، وفرض لصفية بنت عبد المطلب نصف ما فرض لهن، فأرسلت أم سلمة وصواحبها إلى عثمان بن عفان فقلن له: كلم عمر فينا، فإنه قد فضل علينا عائشة وحفصة، فجاء عثمان إلى عمر فقال: إن أمهاتك يقلن لك: سوِّ بيننا، لا تفضل بعضنا على بعض، فقال: إن عشت إلى العام القابل زدتهن لقابل ألفين ألفين، فلما كان العام القابل جعل عائشة وحفصة في اثني عشر ألفا اثني عشر ألفا، وجعل أم سلمة وأم حبيبة في عشرة آلاف عشرة آلاف، وجعل صفية وجويرية في ثمانية آلاف ثمانية آلاف، فلما رأين ذلك سكتن عنه (٢).حضرت ابو الحویرث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے لیے سات ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے دس دس ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے لیے آٹھ آٹھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت صفیہ بنت عبد الملک رضی اللہ عنہا کے لیے ان کے مقرر کردہ حصوں کا آدھا مقرر فرمایا۔ اس پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ان کی ساتھیوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیجا اور ان سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ہمارے بارے میں بات کریں۔ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا کو ہم پر فضیلت دی ہے۔ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا : یقینا تیری مائیں تجھ سے کہہ رہی ہیں کہ ہمارے درمیان برابری کرو، اور ہم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت مت دو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو آئندہ ان کے لیے مزید دو دو ہزار کا اضافہ کروں گا۔ پس جب اگلا سال آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارہ بارہ ہزار مقرر فرما دیے اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے دس دس ہزار مقرر فرما دیے۔ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے آٹھ آٹھ ہزار مقرر فرما دیے۔ جب انہوں نے یہ معاملہ دیکھا تو سب خاموش ہوگئیں۔