مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الفروض وتدوين الدواوين باب: جن لوگوں نے سرکاری عطیہ اور دیوان عدل مدوّن کرنے کے بارے میں یوں کہا
٣٥٠٧٤ - حدثنا زيد بن (الحباب) (١) قال: حدثني أبو معشر قال: حدثني (عمر) (٢) مولى غفرة و (غيره) (٣) قال: لما توفي رسول اللَّه ﷺ (جاء) (٤) مال من البحرين، فقال أبو بكر: من كان له على رسول اللَّه ﷺ شيء أو عدة فليقم فليأخذ؟ فقام جابر فقال: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "إن جاءني (مال) (٥) من البحرين (لأعطيتك) (٦) هكذا وهكذا"، ثلاث مرار وحثى بيده، فقال له أبو بكر: قم فخذ بيدك، فأخذ فإذا هي خمسمائة درهم، فقال: عدوا له ألفًا، وقسم بين الناس ⦗٢٩٣⦘ عشرة دراهم عشرة دراهم وقال: إنما هذه مواعيد وعدها رسول اللَّه ﷺ (الناس) (٧) حتى إذا كان عام مقبل، جاءه مال أكثر من ذلك المال، فقسم بين الناس عشرين درهمًا، عشرين درهمًا، (وفضلت) (٨) منه فضلة، فقسم للخدم خمسة دراهم خمسة دراهم، وقال: إن لكم خدامًا يخدمونكم ويعالجون لكم، فرضخنا لهم، فقالوا: لو فضلت المهاجرين والأنصار (لسابقتهم) (٩)، ولمكانهم من رسول اللَّه ﷺ فقال: أجر أولئك على اللَّه، إن هذا المعاش (للأسوة) (١٠) فيه خير من الأثرة، قال: فعمل بهذا ولايته حتى إذا كانت سنة ثلاث عشرة في جمادى الآخرة (في) (١١) ليال بقين منه مات ﵁، فعمل عمر بن الخطاب ففتح الفتوح وجاءته الأموال، فقال: إن أبا بكر رأى في هذا الأمر رأيا، ولي فيه رأي آخر، لا أجعل من قاتل رسول اللَّه ﷺ كمن قاتل معه، ففرض للمهاجرين والأنصار (ممن) (١٢) شهد بدرًا خمسة آلاف خمسة آلاف، وفرض لمن كان له (إسلام) (١٣) كإسلام أهل بدر، ولم يشهد بدرا أربعة آلاف أربعة آلاف، وفرض لأزواج النبي ﷺ اثني عشر ألفا اثني عشر ألفًا، إلا صفية وجويرية، فرض لهما ستة آلاف ستة آلاف، فأبتا أن تقبلا، فقال لهما: إنما فرضت لهن للهجرة، فقالتا: إنما فرضت لهن لمكانهن من رسول اللَّه ﷺ، وكان لنا مثله، فعرف ذلك عمر ففرض لهما اثني عشر ألفا اثني عشر ألفا، وفرض للعباس اثني عشر ألفا، وفرض لأسامة بن زيد أربعة آلاف، وفرض لعبد اللَّه بن عمر ثلاثة ⦗٢٩٤⦘ آلاف، فقال: يا (أبة) (١٤) لم زدته علي ألفا؟ ما كان لأبيه من الفضل ما لم يكن لأبي، وما كان له لم يكن لي، فقال: إن أبا أسامةكان أحب إليّ رسول اللَّه ﷺ من أبيك، وكان أسامة أحب إليّ رسول اللَّه ﷺ (منك) (١٥)، وفرض لحسن وحسين خمسة آلاف خمسة آلاف، (و) (١٦) ألحقهما بأبيهما (١٧) لمكانهما من رسول اللَّه ﷺ، وفرض لأبناء المهاجرين والأنصار ألفين ألفين، فمر به عمر بن أبي سلمة فقال: زيدوه ألفا، فقال له محمد بن عبد اللَّه بن جحش: ما كان لأبيه ما لم يكن (لآبائنا) (١٨)، وما كان له ما لم يكن لنا، فقال: إني فرضت له بأبيه أبي سلمة ألفين، وزدته بأمه أم سلمة ألفا، فإن كانت (لك) (١٩) أم مثل أمه (زدتك) (٢٠) ألفا، وفرض لأهل مكة وللناس ثمانمائة ثمانمائة، فجاءه طلحة بن عبيد اللَّه (بأخيه) (٢١) عثمان، ففرض له ثمانمائة، فمر به النضر بن أنس فقال عمر: افرضوا له ألفين، فقال طلحة: جئتك بمثله ففرضت له ثمانمائة درهم، وفرضت لهذا ألفين! فقال: إن أبا هذا لقيني يوم أحد فقال لي: ما فعل رسول اللَّه ﷺ؟ فقلت: ما أراه إلا قد قتل، فسل سيفه فكسر غمده وقال: إن كان رسول اللَّه ﷺ قد قتل فإن اللَّه حي لا يموت، فقاتل حتى قتل، وهذا يرعى الشاء في مكان كذا وكذا، فعمل عمر (بدء) (٢٢) خلافته حتى كانت ⦗٢٩٥⦘ سنة ثلاث وعشرين حج تلك السنة فبلغه أن الناس يقولون: لو مات أمير المؤمنين قمنا إلى فلان فبايعناه، وإن كانت بيعةُ أبي بكر فلتةً، فأراد أن يتكلم في أوسط أيام التشريق فقال له عبد الرحمن بن عوف: يا أمير المؤمنين إن هذا مكان يغلب عليه غوغاء الناس ودهمهم ومن لا يحمل كلامك محمله، فارجع إلى دار الهجرة والإيمان، فتكلم (فيسمع) (٢٣) كلامك، فأسرع فقدم المدينة فخطب الناس وقال: (يا) (٢٤) أيها الناس أما بعد فقد بلغني ما قاله قائلكم: لو مات أمير المؤمنين قمنا إلى فلان فبايعناه وإن كانت بيعة أبي بكر فلتة، وأيم اللَّه إن كانت لفلتة وقانا اللَّه شرها، فمن أين لنا مثل أبي بكر نمد أعناقنا إليه كمدنا إلى أبي بكر، إنما ذاك (تغرة) (٢٥) (ليقتل) (٢٦)، من (انتزع) (٢٧) أمور المسلمين من غير مشورة فلا بيعة له، ألا وإني رأيت رؤيا ولا أظن ذاك إلا عند اقتراب أجلي، رأيت ديكا (تراءى) (٢٨) لي فنقرني ثلاث نقرات، فتأولت لي أسماء بنت عميس، (قالت) (٢٩): يقتلك رجل من أهل هذه الحمراء، فإن أمت فأمركم إلى هؤلاء الستة الذين توفي رسول اللَّه ﷺ وهو عنهم راض: إلى عثمان وعلي، وطلحة، والزبير، وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص، فإن اختلفوا فأمرهم إلى علي، وإن أعش فسأوصي ونظرت في العمة وبنت الأخ ما لهما، يورثان ولا يرثان، وإن أعش فسأفتح لكم أمرا تأخذون به، وإن أمت فسترون رأيكم، واللَّه خليفتي فيكم، وقد ⦗٢٩٦⦘ دونت لكم (دواوين) (٣٠) ومصرت لكم الأمصار، وأجريت لكم الطعام إلى (الجار) (٣١)، وتركتكم على واضحة، وإنما أتخوف عليكم رجلين: رجلًا قاتل على تأويل هذا القرآن يقتل، ورجلا رأى أنه أحق بهذا المال من أخيه فقاتل عليه حتى قتل، فخطب (نهار) (٣٢) الجمعة وطعن يوم الأربعاء (٣٣).حضرت عمر جو کہ حضرت غفرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی تو بحرین سے بہت سا مال آیا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جس شخص کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ قرض ہو یا مال ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ کھڑا ہو اور اس مال میں سے لے لے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : اگر میرے پاس بحرین سے مال آیا تو میں ضرور تمہیں اتنا اور اتنا مال عطا کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا : اور ہاتھ سے چلو بھرا تھا۔ لہٰذا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ اور اپنے ہاتھ سے لے لو۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے لے لیا تو وہ پانچ سو درہم تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو ہزار گن کر دے دو ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان دس دس دراہم تقسیم فرما دیے۔ اور فرمایا : یہ وہ وعدے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے کیے تھے۔ ٢۔ یہاں تک کہ جب اگلا سال ہوا تو اس سے کہیں زیادہ مال آیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے درمیان بیس بیس دراہم تقسیم فرما دیے اور پھر بھی مال باقی بچ گیا۔ لہٰذا آپ رضی اللہ عنہ نے غلاموں میں بھی پانچ پانچ دراہم تقسیم فرمائے اور فرمایا : بیشک تمہارے خادمین تمہاری خدمت کرتے ہیں اور تمہارے معاملات نمٹاتے ہیں اس لیے ہم نے ان کو بھی کچھ مال عطا کردیا لوگوں نے کہا : اگر آپ رضی اللہ عنہ مہاجرین اور انصار کو سبقت لے جانے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بہتر مرتبہ کی وجہ سے فضیلت دیتے تو اچھا ہوتا ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان لوگوں کا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔ بیشک اس مال میں برابری بہتر ہے کسی کو ترجیح دینے سے۔ راوی کہتے ہیں : آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں اسی طرح عمل کیا یہاں تک کہ ہجرت کے تیرہویں سال جمادی الاخری کی آخری راتوں میں آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی۔ ٣۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی اور بہت سی فتوحات ہوئیں۔ اور بہت سارا مال آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں ایک رائے اختیار کی اور میری اس معاملہ میں دوسری رائے ہے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قتال کرنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قتال کرنے والے کے برابر نہیں کروں گا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار میں سے جن صحابہ رضی اللہ عنہ م نے غزوہ بدر میں شرکت کی تھی ان کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور وہ مسلمان جو اسلام لانے میں بدریین ہی کی طرح تھے مگر غزوہ بدر میں نہ حاضر ہو سکے ان کے لیے آپ رضی اللہ عنہ نے چار چار ہزار مقرر فرمائے۔ ٤۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات g کے لیے بارہ بارہ ہزار مقرر فرمائے سوائے حضرت صفیہ اور حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ ما کے۔ ان دونوں کے لیے چھ چھ ہزار مقرر فرمائے۔ ا ن دونوں نے یہ قبول کرنے سے انکار کردیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا : بیشک میں نے ان سب کے لیے ہجرت کی وجہ سے اتنا مال مقرر فرمایا : اس پر ان دونوں نے فرمایا : کہ تم نے ان سب کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ہونے کی وجہ سے مقرر فرمایا ہے اور ہمارے لیے بھی ان ہی کی طرح ہوگا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھ لیا اور پھر ان دونوں کے لیے بھی بارہ بارہ ہزار مقرر فرما دیے۔ ٥۔ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے لیے بھی بارہ ہزار مقرر فرمائے۔ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لیے چار ہزار مقرر فرمائے اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے تین ہزار مقرر فرمائے۔ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اے ابا جان ! آپ نے اس کے لیے مجھ سے زیادہ ایک ہزار کیوں بڑھائے ؟ حالانکہ اس کے والد کو وہ فضیلت نہیں ہے جو میرے والد کو ہے اور اس کو وہ فضیلت حاصل نہیں ہے جو مجھے ہے۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک اسامہ کا باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تیرے باپ سے زیادہ محبوب تھا ، اور خود اسامہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تیرے سے زیادہ محبوب تھا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے پانچ پانچ ہزار مقرر فرمائے۔ اور ان دونوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے ان کو ان کے والد سے ملا دیا۔ ٦۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے مہاجرین اور انصار صحابہ رضی اللہ عنہ م کے بیٹوں کے لیے دو دو ہزار مقرر فرمائے، پس حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہاپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے لیے ایک ہزار بڑھا دو ۔ اس پر حضرت محمد بن عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : جو اس کے باپ کو مرتبہ حاصل ہے وہ ہمارے باپ کو نہیں اور جو اس کو مرتبہ حاصل ہے وہ ہمارے لیے نہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیشک میں نے اس کے والد حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے اس کے لیے دو ہزار مقرر فرمائے۔ اور اس کی والدہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اس کے لیے اضافہ کردیا پس اگر تیری والدہ بھی اس کی والدہ کی طرح ہوتی تو میں تیرے لیے بھی ایک ہزار کا اضافہ کردیتا۔ ٧۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے مکہ والوں کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے آٹھ آٹھ سو مقرر فرمائے ۔ پس حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہاپنے بھائی عثمان کو لے کر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے آٹھ سو مقرر کیے۔ اور حضرت نضر بن انس رضی اللہ عنہاپ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ا