مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في العهد يوفى به للمشركين باب: جن حضرات کے نزدیک مشرکین سے کیا ہوا عہد پورا کیا جائے گا
٣٥٠٦٢ - حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن جميع قال: ثنا (أبو الطفيل) (١) قال: ⦗٢٨٨⦘ ثنا حذيفة بن اليمان قال: ما منعني أن أشهد بدرًا إلا أني خرجت أنا وأبي حسيلٌ، قال: فأخذنا كفار قريش فقالوا: إنكم تريدون محمدًا؟ فقلنا: ما نريده (و) (٢) ما نريد إلا المدينة، فأخذوا منا عهد اللَّه وميثاقه لننصرفن إلى المدينة ولا نقاتل معه، فأتينا رسول اللَّه ﷺ فأخبرناه الخبر فقال: "انصرفا نفي لهم و (أستعين) (٣) اللَّه عليهم" (٤).حضرت ابوالطفیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مجھے غزوہ بدر میں شرکت سے نہیں روکا تھا مگر اس بات نے کہ میں اور میرے والد حسیل رحمہ اللہ نکلے ہوئے تھے کہ ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے۔ تم لوگ محمد کے پاس جا رہے ہو۔ تو ہم نے کہا : ہم ان کے پاس نہیں جا رہے ، ہمارا تو صرف مدینہ جانے کا ارادہ ہے۔ تو انہوں نے ہم سے عہد و پیمان لیا کہ ہم مدینہ لوٹ جائیں گے اور محمد ﷺ کی معیت میں قتال نہیں کریں گے ۔ تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں واپس لوٹ جاؤ ہم ان سے بھی عہد کی وفا کریں گے۔ اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔