مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في العهد يوفى به للمشركين باب: جن حضرات کے نزدیک مشرکین سے کیا ہوا عہد پورا کیا جائے گا
٣٥٠٦٠ - حدثنا ابن عيينة (عن) (١) محمد بن سوقة قال: سأل رجل (٢) عطاء عن رجل أسرته الديلم فأخذوا منه عهد اللَّه وميثاقه على أن يرسلوه، فإن بعث إليهم (بفداء قد سموه) (٣) فهو بريء، وإن لم يبعث إليهم كان عليه العهد والميثاق أن يرجع إليهم، فلم يجد، وكان معسرًا، (قال) (٤): (يفي) (٥) بالعهد، فقال: إنهم أهل شرك، فأبى عطاء إلا أن يفي بالعهد.حضرت محمد بن سوقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جس کو دیلمی لوگوں نے قیدی بنا لیا تھا۔ اور اس سے اللہ کا عہد و پیمان لے کر چھوڑ دیا کہ اگر وہ ان کی طرف فدیہ بھیج دے گا تو وہ بری ہوگا۔ اور ان لوگوں نے فدیہ مقرر کردیا تھا۔ اور اگر اس نے فدیہ نہ بھیجا تو وہ عہد و پیمان کے مطابق ان کی طرف واپس لوٹ جائے گا۔ پس اس شخص کو فدیہ کی رقم نہ مل سکی اس لیے کہ وہ تنگدست تھا۔ اب وہ کیا کرے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : وہ وعدہ پورا کرے گا۔ اس آدمی نے کہا : حضرت وہ مشرکین ہیں ! حضرت عطاء رحمہ اللہ نے انکار کیا اور فرمایا : کہ ہر صورت میں وعدہ کی وفاء ضروری ہوگی۔