مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الفتح يأتي فيبشر به الوالي فيسجد سجدة الشكر باب: جن لوگوں نے یوں کہا کہ جب حاکم کے پاس فتح کی خوشخبری آئے تو وہ سجدئہ شکر ادا کرے گا
٣٥٠٥٦ - حدثنا هشيم قال: ثنا الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس قال: لما نزل نكاح زينب انطلق زيد بن حارثة حتى استأذن على زينب قال: ⦗٢٨٦⦘ فقالت زينب: ما لي ولزيد؟ قال: فأرسل إليها (إني رسول) (١) رسول اللَّه ﷺ قال: فأذنت له فبشرها أن اللَّه زوجها من نبيه ﷺ، قال: فخرت ساجدة (شكرًا للَّه) (٢) (٣).حضرت ابو صالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح ختم ہوگیا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ چلے گئے یہاں تک کہ انہوں نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کی تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اب زید کو مجھ سے کیا کام ؟ راوی فرماتے ہیں : کہ حضرت زید رحمہ اللہ نے ان کے پاس پیغام بھیجا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر آیا ہوں تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ان کو اجازت مرحمت فرما دی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا نکاح اپنے نبی ﷺ سے کردیا یہ سن کر حضرت زینب رضی اللہ عنہا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ میں گرپڑیں۔