مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في المحارب إذا قتل وأخذ المال باب: اس لڑنے والے کا بیان جو قتل کر دے اورمال لے لے
٣٤٩٩٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن عطية عن ابن عباس في قوله: ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ ⦗٢٧٢⦘ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ﴾ حتى ختم الآية. فقال: إذا حارب الرجل وقتل وأخذ المال قطعت يده ورجله من خلاف وصلب، وإذا قتل ولم يأخذ المال قتل، وإذا أخذ المال ولم يقتل قطعت يده ورجله من خلاف، وإذا لم يقتل ولم يأخذ المال نفي (١).حضرت عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ رب العزت کے اس قول کی تلاوت فرمائی : آیت : ترجمہ : صرف یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچانے کی بھاگ دوڑ کرتے ہیں کہ قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ نے مکمل آیت پڑھی ۔ اور ارشاد فرمایا : جب آدمی لڑائی کرے اور قتل کر دے اور مال بھی لے لے تو اس کا ایک ہاتھ اور اس کا ایک پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے گا اور سولی دی جائے گی۔ اور جب کوئی قتل کر دے اور مال نہ لے تو اس کو قتل کیا جائے گا اور جب مال لے لے اور قتل نہ کرے تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیا جائے گا۔ اور جب نہ قتل کرے اور نہ ہی مال لے تو اس کو ملک سے نکال دیا جائے گا۔