مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: فيمن يحارب ويسعى في الأرض فسادا ثم يستأمن من قبل أن يقدر عليه في حربه باب: جن لوگوں نے یوں کہا ا س شخص کے بارے میں جو لڑائی کرے اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرے پھر امان طلب کرے اس بات سے پہلے کہ اس پر قابو پا لیا گیا ہو
٣٤٩٨٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الشعبي زعم أن رجلا من مراد حل، فلما سلم أبو موسى قام فقال: هذا مقام التائب العائذ فقال: ويلك مالك، قال: أنا فلان بن فلان المرادي، وإني كنت حاربت اللَّه ورسوله وسعيت في الأرض فسادًا، فهذا حين جئت وقد تبت من قبل أن تقدر علي، قال: فقام أبو موسى المقام الذي قام فيه، ثم قال: إن هذا فلان بن فلان المرادي، وأنه كان حارب اللَّه ورسوله وسعى في الأرض فسادا، وأنه قد تاب من قبل أن نقدر عليه، فإن يك صادقا فسبيل من صدق، وإن كان كاذبًا يأخذه اللَّه بذنبه، قال: فخرج في الناس فذهب ولحى ثم عاد فقتل (١).امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ مراد کے ایک آدمی نے نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں : جب حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو وہ شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : یہ توبہ کرنے والے اور پناہ مانگنے والے کی جگہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہلاکت ہو تجھے کیا ہوا ؟ اس نے کہا : میں فلاں بن فلاں مرادی ہوں۔ اور تحقیق میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کی اور میں نے زمین میں فساد پھیلانے کی بھاگ دوڑ کی۔ اور تحقیق میں اب آیا ہوں اس حال میں کہ میں نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے توبہ کی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اس جگہ میں کھڑے ہوئے جہاں وہ کھڑا تھا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بیشک یہ فلاں بن فلاں مرادی ہے اور اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کی اور زمین میں فساد مچانے کی بھاگ دوڑ کی اور بیشک اس نے خود پر قدرت ہوجانے سے پہلے ہی توبہ کرلی۔ پس اگر یہ شخص سچا ہے تو اس کے ساتھ سچوں والا معاملہ ہے۔ اور اگر یہ جھوٹا ہے تو اللہ رب العزت اس کے گنا ہ کی وجہ سے اس کو پکڑے گا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ شخص لوگوں میں نکلا اور چلا گیا اور نجات پا لی۔ پھر اس نے دوبارہ وہی کام کیا تو اس کو قتل کردیا گیا۔