مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في المحارب أو غيره يؤمن: (أيؤخذ) بما أصاب في حال حربه؟ باب: جن لوگوں نے یوں کہا: لڑنے والا یا اس کے علاوہ شخص جس کو امان دے دی گئی ہو، کیا حالت جنگ میں ملنے والا مال اس سے لیا جائے گا؟
٣٤٩٨٥ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا جرير بن حازم قال: حدثني قيس بن سعد أن عطاء كان يقول: لو أن رجلًا من المسلمين قتل رجلًا ثم كفر فلحق بالمشركين فكان فيهم، ثم رجع تائبا قبلت توبته من شركه، وأقيم عليه القصاص، ولو أنه ⦗٢٧٠⦘ لحق بالمشركين ولم يقتل فكفر ثم قاتل المسلمين فقتل منهم ثم جاء تائبا قبل منه، ولم يكن عليه شيء.حضرت قیس بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمہ اللہ یوں فرمایا کرتے تھے : اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی کسی آدمی کو قتل کر دے پھر کفر اختیار کرلے اور مشرکین سے جا ملے اور ان میں رہے ۔ پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آئے۔ شرک سے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اور اس پر حدِّ قصاص قائم کی جائے گی۔ اور اگر کوئی مشرکین سے جا ملے اس حال میں کہ اس نے قتل تو نہیں کیا صرف کفر اختیار کیا پھر مسلمانوں سے قتال کیا اور کچھ مسلمانوں کو شہید بھی کیا پھر وہ توبہ کر کے واپس لوٹ آیا تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔