حدیث نمبر: 34957
٣٤٩٥٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن عامر والحكم قالا: في الرجل المسلم يرتد عن الإسلام ويلحق بأرض العدو (قالا) (١): تعتد امرأته ثلاثة قروء إن كانت تحيض، وإن كانت لا تحيض فثلاثة أشهر، وإن كانت حاملًا أن تضع حملها، ويقسم ميراثه بين امرأته وورثته من المسلمين، ثم تزوج إن شاءت، وإن هو رجع فتاب من قبل أن تنقضي عدتها ثبتا على نكاحهما.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اشعث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عامر رحمہ اللہ اور حضرت حکم رحمہ اللہ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان اسلام سے مرتد ہوجائے اور دشمن کے ملک میں چلا جائے۔ ان دونوں نے فرمایا : اگر اس کی بیوی کو حیض آتا ہوگا تو وہ تین حیض عدت گزارے گی۔ اور اگر اس کو حیض نہیں آتا ہوگا تو وہ تین مہینے عدت گزارے گی ، اور اگر وہ حاملہ ہوگی تو وضع حمل اس کی عدت ہوگی۔ اور پھر اس مرتد کی وراثت اس کی بیوی اور مسلمان ورثاء کے درمیان تقسیم کردی جائے گی۔ پھر اگر وہ عورت چاہے تو نکاح کرسکتی ہے۔ اور اگر مرتد لوٹ آئے اور اپنی بیوی کی عدت مکمل ہونے سے پہلے توبہ کرلے تو ان دونوں کو سابقہ نکاح پر برقرار رکھا جائے گا۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (فلا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34957
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34957، ترقيم محمد عوامة 33432)