حدیث نمبر: 34955
٣٤٩٥٥ - حدثنا محمد بن فضيل عن الوليد بن جميع قال: كتب عامر لعمر بن عبد العزيز من اليمن أن رجلا كان يهوديا فأسلم ثم تهود (فرجع) (١) عن الإسلام، فكتب إليه عمر أن ادعه إلى الإسلام، فإن أسلم فخل سبيله، وإن أبى (فادع بالخشبة) (٢) ثم ادعه، فإن أبى (فاضجعه) (٣) عليها (ثم ادعه) (٤)، فإن أبى فأوثقه ثم ضع (الحربة) (٥) على قلبه، ثم ادعه، فإن رجع فخل سبيله، وإن أبى فاقتله، فلما جاء الكتاب فعل به ذلك حتى وضع الحربة على قلبه ثم دعاه فأسلم فخلى سبيله.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ولید ابن جُمیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے ایک گورنر نے یمن سے آپ رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ ایک آدمی یہودی تھا اس نے اسلام قبول کرلیا پھر اس نے دوبارہ یہودیت کو اختیار کرلیا، اور اسلام سے پھر گیا۔ حضرت عمر رحمہ اللہ نے اس کا جواب لکھا کہ اس کو اسلام کی دعوت دو ۔ اگر وہ اسلام لے آئے۔ تو اس کو چھوڑ دو اگر وہ انکار کر دے تو اس کو لکڑی کے ذریعہ مارو اگر وہ انکار کر دے تو اس کو لکڑی پر لٹا دو پھر اس کو اسلام کی طرف دعوت دو ، اگر پھر بھی انکار کر دے تو تم اس کو باندھو اور اس کے دل میں نیزہ کی نوک رکھ دو پھر دوبارہ اس کو اسلام کی طرف دعوت دو ۔ پس اگر وہ لوٹ آئے تو اس کو چھوڑ دو ، اور اگر انکار کر دے تو اس کو قتل کردو۔ جب خط آیا تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا گیا یہاں تک کہ اس کے دل پر نیزہ کی نوک رکھ دی گئی پھر اس کو اسلام کی طرف دعوت دی وہ اسلام لے آیا تو انہوں نے اس کو چھوڑ دیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (ورجع).
(٢) في [ط، هـ]: (فادعه بالحسنة).
(٣) في [هـ]: (فاضممه).
(٤) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٥) في [أ، ب، هـ]: (الخشبة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34955
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34955، ترقيم محمد عوامة 33430)