حدیث نمبر: 34949
٣٤٩٤٩ - حدثنا ابن عيينة عن محمد بن عبد الرحمن عن أبيه قال: لما قدم على عمر فتح تستر -وتستر من أرض البصرة- سألهم: هل من مغربة؟ قالوا: رجل من المسلمين لحق بالمشركين فأخذناه، قال: ما صنعتم به؟ قالوا: قتلناه، قال: أفلا أدخلتموه بيننا وأغلقتم عليه بابًا (وأطعمتوه) (١) كل يوم رغيفًا، ثم استتبتموه ⦗٢٦٤⦘ ثلاثًا، فإن تاب وإلا قتلتموه، (٢) قال: اللهم لم أشهد ولم آمر ولم أرض إذا بلغني -أو قال: حين بلغني (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تستر کی فتح کی خبر لائی گئی … تستر یہ بصرہ کا ایک علاقہ ہے … آپ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے پوچھا : دور دراز کی کیا خبر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : مسلمانوں کا ایک آدمی تھا۔ جو مشرکین سے جا ملا۔ ہم نے اس کو پکڑ لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کہ تم نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم نے اس کو قتل کردیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے اسے کسی گھر میں داخل کیوں نہ کیا اور پھر تم اس پر دروازہ بند کردیتے یعنی اس کو قید کردیتے اور تم اسے روزانہ تھوڑا سا کھانا دیتے پھر تین مرتبہ اس سے توبہ طلب کرتے پھر اگر وہ توبہ کرلیتا تو ٹھیک ورنہ تم اسے قتل کردیتے ؟ ! پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! میں نہ ان پر گواہ ہوں اور نہ میں نے ان کو حکم دیا اور جب مجھے اس بات کی خبر ملی تو میں اس پر خوش نہ ہوا۔

حواشی
(١) في [ب]: (وأطعتموه)، وفي [أ، جـ]: (وأطعمتموه).
(٢) في [هـ]: زاد (ثم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34949
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف محمد هو ابن أبي ليلي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34949، ترقيم محمد عوامة 33424)