مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
٣٤٩٤٨ - حدثنا شبابة قال: ثنا ابن أبي ذئب عن الزهري عن عبيد اللَّه (١) بن عتبة قال: كان ناس من بني حنيفة ممن كانوا مع مسيلمة الكذاب يفشون أحاديثه ويتلونه، فأخذهم ابن مسعود (فكتب ابن مسعود) (٢) إلى عثمان فكتب إليه: أن ادعهم إلى الإسلام فمن شهد منهم أن لا إله إلا اللَّه وأن محمدا رسول اللَّه ﷺ واختار الإيمان على الكفر فأقبل ذلك منهم وخل سبيلهم، فإن أبوا فاضرب أعناقهم، فاستتابهم فتاب بعضهم، وأبى بعضهم فضرب أعناق الذين أبوا (٣).حضرت عبید اللہ ابن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو حنیفہ قبیلہ کے کچھ لوگ جو مسیلمہ کذاب کے ساتھ تھے وہ اس کی باتوں کو ظاہر کرتے تھے اور ان کی تلاوت کرتے تھے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو پکڑ لیا پھر ان کے بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر اطلاع دی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر جواب دیا کہ ان لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دو ، پس ان میں سے جو تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یقینا محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اور کفر کو چھوڑ کر ایمان کو اختیار کرلے تو تم ان سے ایمان کو قبول کرلو اور ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ اور اگر وہ انکار کردیں تو تم ان کی گردنیں مار دو ، پس حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے توبہ طلب کی۔ ان میں سے بعض نے توبہ کرلی اور بعض نے انکار کردیا ۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے انکار کرنے والوں کی گردنیں اڑا دیں۔