مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
حدیث نمبر: 34937
٣٤٩٣٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: كتب عمرو بن العاص إلى عمر بن الخطاب أن رجلًا يبدل بالكفر بعد الإيمان، فكتب إليه عمر: استتبه، فإن تاب فاقبل منه، وإلا فاضرب عنقه (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ یقینا ایک آدمی نے ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرلیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں خط لکھ کر فرمایا : اس سے توبہ طلب کرو پس اگر وہ اس سے توبہ کرلے تو اس کی طرف سے توبہ قبول کرلو، ورنہ اس کی گردن مار دو ۔
حواشی
(١) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، ورواه مسدد كما في المطالب (١٨٤٣)، وابن عبد الحكم في فتوح مصر ص ٢٩١.