مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
٣٤٩٣٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إني مررت بمسجد بني حنيفة فسمعت إمامهم يقرأ ⦗٢٦١⦘ بقراءة ما أنزلها اللَّه على محمد ﷺ فسمعته يقول: الطاحنات طحنًا فالعاجنات عجنًا فالخابزات خبزًا (فالثاردات ثردًا) (١) فاللاقمات لقمًا، قال: فأرسل عبد اللَّه فأُتي بهم سبعين ومائة رجل على دين مسيلمة إمامهم عبد اللَّه بن النواحة، فأمر به فقتل، ثم نظر إلى بقيتهم فقال: ما نحن (بمجزري) (٢) الشيطان، هؤلاء سائر القوم رحلوهم إلى الشام لعل اللَّه أن (يفنيهم) (٣) بالطاعون (٤).حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بیشک میں بنو حنیفہ قبیلہ والوں کی مسجد کے قریب سے گزرا۔ تو میں نے ان کے امام کو سنا کہ اس نے اس قرآن میں تلاوت کی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا۔ پھر میں نے اس کو سنا کہ وہ یہ کلمات پڑھ رہا ہے : الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا فَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا فَالْخَابِزَاتُ خَبْزًا فَالثَّارِدَاتُ ثَرْدًا فَاللاَقِمَاتُ لَقْمًا ! ! ! راوی کہتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف قاصد بھیجا۔ پھر ان لوگوں کو لایا گیا۔ ایک سو ستر آدمی مسیلمہ کے دین پر تھے۔ اور ان کا امام عبد اللہ بن النواحہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے باقی لوگوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : ہم ان کو قتل کر کے شیطان کو خوش نہیں کریں گے۔ ان سب لوگوں کو شام کی طرف لے جاؤ۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کو طاعون کے ذریعے ختم فرما دیں۔