حدیث نمبر: 34936
٣٤٩٣٦ - حدثنا وكيع قال: ثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إني مررت بمسجد بني حنيفة فسمعت إمامهم يقرأ ⦗٢٦١⦘ بقراءة ما أنزلها اللَّه على محمد ﷺ فسمعته يقول: الطاحنات طحنًا فالعاجنات عجنًا فالخابزات خبزًا (فالثاردات ثردًا) (١) فاللاقمات لقمًا، قال: فأرسل عبد اللَّه فأُتي بهم سبعين ومائة رجل على دين مسيلمة إمامهم عبد اللَّه بن النواحة، فأمر به فقتل، ثم نظر إلى بقيتهم فقال: ما نحن (بمجزري) (٢) الشيطان، هؤلاء سائر القوم رحلوهم إلى الشام لعل اللَّه أن (يفنيهم) (٣) بالطاعون (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ بیشک میں بنو حنیفہ قبیلہ والوں کی مسجد کے قریب سے گزرا۔ تو میں نے ان کے امام کو سنا کہ اس نے اس قرآن میں تلاوت کی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا۔ پھر میں نے اس کو سنا کہ وہ یہ کلمات پڑھ رہا ہے : الطَّاحِنَاتُ طَحْنًا فَالْعَاجِنَاتُ عَجْنًا فَالْخَابِزَاتُ خَبْزًا فَالثَّارِدَاتُ ثَرْدًا فَاللاَقِمَاتُ لَقْمًا ! ! ! راوی کہتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف قاصد بھیجا۔ پھر ان لوگوں کو لایا گیا۔ ایک سو ستر آدمی مسیلمہ کے دین پر تھے۔ اور ان کا امام عبد اللہ بن النواحہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے قتل کردیا گیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے باقی لوگوں کی طرف دیکھا اور فرمایا : ہم ان کو قتل کر کے شیطان کو خوش نہیں کریں گے۔ ان سب لوگوں کو شام کی طرف لے جاؤ۔ شاید اللہ تعالیٰ ان کو طاعون کے ذریعے ختم فرما دیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (فالباذران بزرا).
(٢) في [أ، ب]: (لمحرري)، وفي [س]: (بمحرزي).
(٣) في [ب]: (ينفيهم)، وفي [ط، هـ]: (يصيبهم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34936
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (١٨٧٥٨)، والطبراني (٨٩٥٦)، والشاشي (٧٤٦)، وانظر: ما قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34936، ترقيم محمد عوامة 33412)