حدیث نمبر: 34935
٣٤٩٣٥ - حدثنا أبو معاوية (حدثنا) (١) الأعمش عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال: خرج رجل يطرق فرسا له، فمر بمسجد بني حنيفة فصلى فيه فقرأ لهم إمامهم بكلام مسيلمة الكذاب، فأتى ابن مسعود فأخبره فبعث إليهم (فجاء بهم) (٢)، فاستتابهم فتابوا إلا عبد اللَّه بن النواحة فإنه قال له: يا عبد اللَّه (لولا) (٣) أني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لولا أنك رسول لضربت عنقك"، فأما اليوم فلست برسول، (يا خرشة) (٤) قم فاضرب عنقه، فقام فضرب عنقه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نکلا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا پھر وہ بنو حنیف قبیلہ کی مسجد کے پاس سے گزرا۔ اور اس میں نماز ادا کی۔ تو ان لوگوں کے امام نے مسیلمہ کذاب کے کلام کی تلاوت کی ! یہ شخص حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی خبر دی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد بھیج کر ان لوگوں کو بلایا۔ ان سب لوگوں کو لایا گیا ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان سب سے توبہ کروائی۔ ان سب نے توبہ کرلی سوائے عبد اللہ بن نوَّاحہ کے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ا س سے فرمایا : اے عبد اللہ ! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ” اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا۔ “ لیکن آج تو قاصد نہیں ہے ۔ اے خَرَشہ ! اٹھو اور اس کی گردن مار دو ۔ پس خرشہ اٹھے اور انہوں نے اس کی گردن ما ر دی۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [هـ]: (فجاءهم).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب، جـ]: (يا حرشة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34935
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٣٦٤٢)، وأبو داود (٢٧٦٢)، والنسائي في الكبرى (٨٦٧٥)، وأبو يعلى (٥٢٢١)، والطبراني (٥٩٥٨)، وابن حبان (٤٨٧٩)، والبيهقي ٩/ ٢١١، وبنحوه البزار (١٦٨١/ كشف)، وابن الجارود (١٠٤٦)، والبيهقي ٩/ ٦١١، والدارقطني في العلل ٥/ ٨٩، وانظر: ما بعده.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34935، ترقيم محمد عوامة 33411)