مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
٣٤٩٣٥ - حدثنا أبو معاوية (حدثنا) (١) الأعمش عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال: خرج رجل يطرق فرسا له، فمر بمسجد بني حنيفة فصلى فيه فقرأ لهم إمامهم بكلام مسيلمة الكذاب، فأتى ابن مسعود فأخبره فبعث إليهم (فجاء بهم) (٢)، فاستتابهم فتابوا إلا عبد اللَّه بن النواحة فإنه قال له: يا عبد اللَّه (لولا) (٣) أني سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "لولا أنك رسول لضربت عنقك"، فأما اليوم فلست برسول، (يا خرشة) (٤) قم فاضرب عنقه، فقام فضرب عنقه (٥).حضرت حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نکلا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوا پھر وہ بنو حنیف قبیلہ کی مسجد کے پاس سے گزرا۔ اور اس میں نماز ادا کی۔ تو ان لوگوں کے امام نے مسیلمہ کذاب کے کلام کی تلاوت کی ! یہ شخص حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی خبر دی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد بھیج کر ان لوگوں کو بلایا۔ ان سب لوگوں کو لایا گیا ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان سب سے توبہ کروائی۔ ان سب نے توبہ کرلی سوائے عبد اللہ بن نوَّاحہ کے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ا س سے فرمایا : اے عبد اللہ ! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ” اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا۔ “ لیکن آج تو قاصد نہیں ہے ۔ اے خَرَشہ ! اٹھو اور اس کی گردن مار دو ۔ پس خرشہ اٹھے اور انہوں نے اس کی گردن ما ر دی۔