مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
٣٤٩٣٤ - حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن قابوس بن المخارق عن أبيه قال: بعث علي محمد بن أبي بكر أميرا على مصر، فكتب إلى علي يسأله عن زنادقة، منهم من يعبد الشمس والقمر، ومنهم من يعبد غير ذلك، ومنهم من يدعي الإسلام، فكتب إليه وأمره في الزنادقة أن يقتل من كان يدعي الإسلام ويترك سائرهم (يعبدون) (١) ما شاؤا (٢).حضرت مخارق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے محمد بن ابی بکر کو مصر والوں پر امیر بنا کر بھیجا۔ تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے خط لکھ کر زنادقہ کے بارے میں سوال کیا۔ جن میں سے کچھ سورج اور چاند کی پرستش کرتے تھے۔ اور ان میں سے کچھ اس کے علاوہ چیزوں کی پرستش کرتے تھے اور کچھ اسلام کا دعویٰ کرتے تھے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا ار زنادقہ کے بارے میں ان کو حکم دیا کہ جو تو اسلام کا دعویٰ کرے اس کو قتل کردو، اور باقی سب کو چھوڑ دو وہ جس کی چاہیں عبادت کریں۔