مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
حدیث نمبر: 34933
٣٤٩٣٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن سماك عن (ابن) (١) عبيد بن الأبرص عن علي بن أبي طالب أنه أتي برجل كان نصرانيًا فأسلم ثم تنصر، فسأله عمر عن كلمة فقال له، فقام إليه علي فرفسه برجله، قال: فقام الناس إليه فضربوه حتى قتلوه (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عبید بن ابرص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب نے ارشاد فرمایا : بیشک ایک آدمی کو لایا گیا جو نصرانی تھا پس اس نے اسلام قبول کرلیا پھر وہ دوبارہ نصرانی ہوگیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اس بات کے متعلق پوچھا : تو اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو بتادیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی طرف کھڑے ہوئے اور اس کے سینہ پر اپنی لات ماری۔ پھر لوگ بھی کھڑے ہوگئے اور اس کو مارنے لگے یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (أبي).
(٢) مجهول؛ لجهالة ابن عبيد.