مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
حدیث نمبر: 34932
٣٤٩٣٢ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي (علاقة) (١) أن عمر بن الخطاب بعث سرية فوجدوا رجلًا من المسلمين تنصر بعد إسلامه فقتلوه فأخبر عمر بذلك فقال: هل دعوتموه إلى الإسلام؟ قالوا: لا، قال: فإني أبرأ إلى اللَّه من دمه (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو علاقہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر بھیجا پس ان لوگوں نے مسلمانوں میں سے ایک آدمی پایا جو اسلام لانے کے بعد عیسائی ہوگیا ۔ تو انہوں نے اس شخص کو قتل کردیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر دی گئی آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : کیا تم لوگوں نے اس کو اسلام کی دعوت دی تھی ؟ انہوں نے کہا : نہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا پھر تو میں اللہ کی طرف اس کے خون سے بری ہوں۔
حواشی
(١) في [هـ]: (علاثة)، ولم أعرفه ولعله جد يزيد بن أبي حبيب.
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي علاقة.