حدیث نمبر: 34931
٣٤٩٣١ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن عبد الملك بن سعيد بن (حيان) (١) عن عمار الدهني قال: حدثني أبو الطفيل قال: كنت في الجيش الذين بعثهم علي ابن أبي طالب إلى بني ناجية، فانتهينا إليهم فوجدناهم على ثلاث فرق، قال: فقال أميرنا لفرقة منهم: ما أنتم؟ قالوا: نحن قوم (كنا) (٢) نصارى (وأسلمنا) (٣) فثبتنا ⦗٢٥٩⦘ على إسلامنا قال: اعتزلوا، ثم قال للثانية: ما أنتم؟ قالوا: (نحن قوم من النصارى لم نر دينًا أفضل من ديننا فثبتنا عليه، فقال: اعتزلوا، ثم قال لفرقة أخرى: ما أنتم قالوا: نحن) (٤) قوم كنا نصارى فأسلمنا فرجعنا، فلم نر دينا أفضل من ديننا فتنصرنا، قال لهم: أسلموا، فأبوا فقال لأصحابه: إذا مسحت (٥) رأسي ثلاث مرات فشدوا عليهم ففعلوا فقتلوا وسبوا الذراري، فجئت بالذراري إلى علي وجاء مصقلة بن هبيرة فاشتراهم بمائتي ألف فجاء بمائة ألف إلى علي، فأبى أن يقبل، فانطلق مصقلة بدراهمه وعمد إليهم مصقلة فاعتقهم، ولحق بمعاوية، فقيل لعلي: ألا تأخذ الذرية؟ فقال: لا، فلم يعرض لهم (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمار الدھنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الطفیل رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میں اس لشکر میں موجود تھا جس کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنو ناجیہ کی طرف بھیجا تھا۔ جب ہم ان کے پا س پہنچے تو ہم نے ان لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم پایا۔ پس ہمارے امیر نے ان کے ایک گروہ سے پوچھا : تمہارا معاملہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم عیسائی تھے اور ہم نے اسلام قبول کیا اور خود کو اسلام پر ثابت قدم رکھا۔ امیر نے کہا : تم الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے دوسرے گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم عیسائی لوگ تھے۔ ہم نے اپنے دین سے افضل کسی دین کو نہیں سمجھا لہٰذا ہم نے خود کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھا تو امیر نے کہا : تم بھی الگ ہو جاؤ۔ پھر امیر نے آخری گروہ سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے کہا : ہم لوگ عیسائی تھی پس ہم نے اسلام قبول کیا پھر ہم اسلام سے پھرگئے کیونکہ ہم نے اپنے دین سے افضل کوئی دین نہیں سمجھا اور ہم عیسائی ہوگئے ۔ امیر نے ان سے کہا : تم اسلام لے آؤ۔ انہوں نے انکار کردیا۔ تو امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا : جب میں تین مرتبہ اپنے سر پر ہاتھ پھیروں تو تم ان پر حملہ کردینا پس لوگوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے لڑنے والوں کو قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا۔ پھر میں قیدی لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آگیا۔ اور معقلہ بن ھبیرہ آیا اور اس نے ان قیدیوں کو دو لاکھ میں خرید لیا پھر وہ ایک لاکھ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ معقلہ اپنے دراہم لے کر واپس چلا گیا اور ان غلاموں کے پاس آیا اور ان سب کو آزاد کردیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے جا ملا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے وہ اولاد کیوں نہ لے لی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے ان سے کوئی تعرض نہیں فرمایا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (حبان).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (فأسلمنا).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، ك، م].
(٥) في [هـ]: زيادة (على).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34931
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عمار الدهني صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34931، ترقيم محمد عوامة 33407)