مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
٣٤٩٢٢ - حدثنا عبد الرحيم (بن سليمان) (١) عن زكريا عن أبي إسحاق عن عاصم بن ضمرة، قال: (ارتد) (٢) علقمة بن علاثة عن دينه بعد النبي ﷺ فقاتله المسلمون، قال: فأبى أن يجنح للسلم، فقال أبو بكر: لا يقبل (منك) (٣) إلا سلم مخزية أو حرب مجلية، قال: فقال: وما سلم مخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا أنهم في الجنة وأن قتلاكم في النار، وتدون قتلانا ولا (ندي) (٤) قتلاكم، فاختاروا سلمًا مخزية (٥).حضرت عاصم بن قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علقمہ بن علاثہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ، اپنے دین سے مرتد ہوگیا ۔ تو مسلمانوں نے اس سے قتال کیا۔ راوی کہتے ہیں : اس نے صلح کے لیے جھکنے سے انکار کردیا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم سے کچھ قبول نہیں کیا جائے گا سوائے رسوا کردینے والی صلح کے یا سخت جنگ کے۔ اس نے پوچھا : رسوا کردینے والی صلح سے کیا مراد ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ کہ تم ہمارے مردوں کے بارے میں اس بات کی گواہی دو کہ بیشک وہ جنت میں ہیں۔ اور یقینا تمہارے مردے جہنم میں ہیں۔ اور تم ہمارے مقتولین کی دیت ادا کرو گے اور ہم تمہارے مقتولین کی دیت ادا نہیں کریں گے۔ تو ان لوگوں نے رسوائی والی صلح کا انتخاب کرلیا۔