حدیث نمبر: 34921
٣٤٩٢١ - حدثنا عباد بن العوام عن سعيد عن قتادة عن حميد بن هلال أن معاذ بن جبل أتى أبا موسى وعنده رجل يهودي فقال: ما هذا؟ قال: هذا يهودي أسلم ثم أرتد، وقد استتابه أبو موسى شهرين، فقال معاذ: لا أجلس حتى أضرب عنقه، (قضاء) (١) اللَّه و (قضاء) (٢) رسول اللَّه ﷺ (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حمید بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رحمہ اللہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آدمی تھا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ یہودی اسلام لایا تھا پھر مرتد ہوگیا اور تحقیق حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے دو مہینہ اس کو توبہ کے لیے مہلت دی۔ اس پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ہرگز نہیں بیٹھوں گا یہاں تک کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا یہ فیصلہ ہے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (قضى).
(٢) في [أ، هـ]: (قضى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34921
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، سعيد اختلط، وحميد بن هلال لم يدرك ذلك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34921، ترقيم محمد عوامة 33398)