مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
٣٤٩٢١ - حدثنا عباد بن العوام عن سعيد عن قتادة عن حميد بن هلال أن معاذ بن جبل أتى أبا موسى وعنده رجل يهودي فقال: ما هذا؟ قال: هذا يهودي أسلم ثم أرتد، وقد استتابه أبو موسى شهرين، فقال معاذ: لا أجلس حتى أضرب عنقه، (قضاء) (١) اللَّه و (قضاء) (٢) رسول اللَّه ﷺ (٣).حضرت حمید بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رحمہ اللہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی آدمی تھا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ یہودی اسلام لایا تھا پھر مرتد ہوگیا اور تحقیق حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے دو مہینہ اس کو توبہ کے لیے مہلت دی۔ اس پر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ہرگز نہیں بیٹھوں گا یہاں تک کہ میں اس کی گردن نہ اڑا دوں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا یہ فیصلہ ہے۔