حدیث نمبر: 3492
٣٤٩٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أنا) (١) عاصم عن عمرو بن سلمة قال: (لما) (٢) رجع قومي من عند رسول اللَّه ﷺ قالوا: إنه قال لنا: "ليؤمكم أكثركم قراءة للقرآن". قال: فدعوني فعلموني الركوع والسجود فكنت أصلي بهم وعلي بردة (مفتوقة) (٣) قال: فكانوا يقولون لأبي: ألا تغطي عنا است ابنك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں جب ہماری قوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے واپس آئی تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ تم میں قرآن کی سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا تمہاری امامت کرائے۔ چناچہ انہوں نے مجھے بلایا اور مجھے رکوع سجدہ سکھایا۔ میں انہیں نماز پڑھاتا تھا اور میرے اوپر ایک پھٹی ہوئی چادر ہوتی تھی۔ وہ میرے والد سے کہا کرتے تھے کہ کیا تم اپنے بیٹے کی سرین ڈھک نہیں سکتے ؟ !

حواشی
(١) في [أ، جـ]: (نا).
(٢) في [د]: (له).
(٣) في [ب]: (معتوقة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3492
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أبو داود (٥٨٦)، والنسائي ٢/ ٧٠، وابن سعد ١/ ٣٣٧، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٥٩٩)، والطحاوي في شرح الشكل (٣٩٦٤)، والطبراني (٦٣٥٣)، والبيهقي ٣/ ٩١، وأصله عند البخاري (٤٣٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3492، ترقيم محمد عوامة 3474)