مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من قال يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
حدیث نمبر: 3492
٣٤٩٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أنا) (١) عاصم عن عمرو بن سلمة قال: (لما) (٢) رجع قومي من عند رسول اللَّه ﷺ قالوا: إنه قال لنا: "ليؤمكم أكثركم قراءة للقرآن". قال: فدعوني فعلموني الركوع والسجود فكنت أصلي بهم وعلي بردة (مفتوقة) (٣) قال: فكانوا يقولون لأبي: ألا تغطي عنا است ابنك (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سلمہ کہتے ہیں جب ہماری قوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے واپس آئی تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ تم میں قرآن کی سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا تمہاری امامت کرائے۔ چناچہ انہوں نے مجھے بلایا اور مجھے رکوع سجدہ سکھایا۔ میں انہیں نماز پڑھاتا تھا اور میرے اوپر ایک پھٹی ہوئی چادر ہوتی تھی۔ وہ میرے والد سے کہا کرتے تھے کہ کیا تم اپنے بیٹے کی سرین ڈھک نہیں سکتے ؟ !
حواشی
(١) في [أ، جـ]: (نا).
(٢) في [د]: (له).
(٣) في [ب]: (معتوقة).