مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الرجل يسلم ثم يرتد ما يصنع به؟ باب: اس آدمی کا بیان جو اسلام لے آئے پھر مرتد ہوجائے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا
٣٤٩١٨ - حدثنا (هشيم) (١) عن عبد العزيز بن صهيب قال: ثنا أنس بن مالك قال: قدم ناس من عرينة المدينة فاجتووها فقال لهم رسول اللَّه ﷺ: "إن شئتم أن تخرجوا إلى إبل الصدقة فتشربوا من أبوالها وألبانها"، ففعلوا واستصحوا، قال: فمالوا على (الرعاء) (٢) فقتلوهم، واستاقوا ذود رسول اللَّه ﷺ، وكفروا بعد إسلامهم، فبعث في آثارهم فأتي بهم، فقطع أيديهم وأرجلهم وسمل أعينهم وتركوا بالحرة حتى ماتوا (٣).حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ منورہ آئے تو ان کو مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اگر تم چاہو تو صدقے کے اونٹوں کی طرف نکل جاؤ۔ اور ان کے دودھ اور پیشاب میں سے کچھ پیو پس انہوں نے ایسا کیا تو وہ صحت یاب ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ لو گ چرواہوں کی طرف مائل ہوئے اور انہوں نے ان کو قتل کردیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند مویشی ہانک کرلے گئے اور اسلام لانے کے بعد انہوں نے کفر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے ایک جماعت کو بھیجا پس ان کو پکڑ کر لایا گیا اور ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں کو داغا گیا اور انہیں حرہ کے مقام پر چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ یہ لوگ مرگئے۔