مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الخمس والخراج كيف يوضع باب: خمس اور خراج کیسے مقرر کیا جائے گا؟
٣٤٩١٢ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا محمد بن طلحة عن داود بن سليمان قال: كتب عمر بن عبد العزيز إلى عبد الحميد بن عبد الرحمن: آمرك أن (تطرز) (١) أرضهم -يعني أهل الكوفة، ولا تحمل خرابا على عامر ولا عامرا على خراب، وانظر (الخراب) (٢) فخذ منه ما أطاق وأصلحه حتى يعمر، ولا تأخذ من العامر إلا وظيفة الخراج في رفق وتسكين لأهل الأرض، وآمرك أن لا تأخذ في الخراج إلا وزن سبعة ليس لها (أس) (٣)، ولا أجور الضرابين، ولا (٤) الفضة ولا هدية النيروز والمهرجان، ولا ثمن المصحف، ولا أجور الفتوح، ولا أجور البيوت ولا درهم النكاح، ولا (خراج) (٥) (على) (٦) من أسلم من أهل الأرض.حضرت داؤد بن سلیمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے عبدالحمید بن عبدالرحمن کو خط لکھا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اہل کوفہ کی زمین پر غور کر۔ کسی بنجر زمین پر آباد زمین کا حکم نہ لگاؤ اور کسی آباد زمین پر بنجر زمین کا حکم نہ لگاؤ۔ بنجر زمین کو آباد کرنے کی پوری کوشش کرو۔ زمین کو آباد کرنے والے سے صرف خراج لو تاکہ ان کے ساتھ نرمی ہو اور انہیں سہولت ملے۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ خراج میں صرف سات کا وزن لو، ضرابین کی اجرت نہ لو۔ چاندی پگھلی ہوئی نہ لو۔ نیروز اور مرجان کا ہدیہ نہ لو۔ صحف کی قیمت نہ لو۔ فسوح کی اجرت نہ لو، کمروں کا کرایہ نہ لو، نکاح کا درہم نہ لو اور جو مسلمان ہوجائے اس سے خراج نہ لو۔