مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في الكنز يوجد في أرض العدو باب: جن لوگوں نے یوں کہا: اس خزانہ کے بارے میں جو دشمن کی زمین میں پایا گیا ہو
حدیث نمبر: 34889
٣٤٨٨٩ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن أبي قيس عبد الرحمن بن (ثروان) (١) عن (هزيل) (٢) قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه فقال: إني وجدت مائتي درهم، فقال عبد اللَّه: إني (لا أرى) (٣) المسلمين (بلغت) (٤) أموالهم هذا، أراه زكاة مال (عادي) (٥)، فأد خمسه في بيت المال ولك ما بقي (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ھزیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : بیشک مجھے دو سو درہم ملے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرا خیال نہیں ہے کہ مسلمانوں کا مال اس مقدار تک پہنچا ہے۔ میرے خیال میں عام مدفون مال ہے۔ پس تم اس میں سے خمس بیت المال کو ادا کرو۔ اور جو باقی بچے گا وہ تمہارا ہوگا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (مروان).
(٢) في [س]: (هذيل).
(٣) في [أ، ب، هـ]: (لأرى).
(٤) في [هـ]: (تلفت).
(٥) في [ط، هـ]: (غازي).