مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: في وضع الجزية والقتال عليها باب: جن لوگوں نے کہا کہ جزیہ نہ دینے کی صورت میں ان کے خلاف قتال ہو گا
٣٤٨١٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي البختري قال: لما غزا سلمان المشركين من أهل فارس قال: كفوا حتى أدعوهم كما كنت أسمع رسول اللَّه ﷺ يدعوهم، فأتاهم فقال: "إني رجل منكم قد تدرون منزلي من هؤلاء القوم، و (إنا) (١) ندعوكم إلى الإسلام، فإن أسلمتم فلكم مثل ما لنا وعليكم مثل الذي علينا، وإن أبيتم فأعطوا الجزية عن يد وأنتم صاغرون، وإن أبيتم قاتلناكم"، فأبوا عليه، فقال للناس: (انهدوا) (٢) إليهم (٣).حضرت ابو البختری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سلمان رضی اللہ عنہاہل فارس سے جنگ میں شریک ہوئے تو فرمایا : رکو یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کو دعوت دی ۔ پس آپ رضی اللہ عنہان کے پاس آئے اور فرمایا : یقینا میں تمہارے میں سے ہی ایک آدمی ہوں۔ اور تحقیق تم نے ان لوگوں میں میرے مرتبہ کو جان لیا ہے۔ اور میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر تم نے اسلام قبول کرلیا تو تمہیں بھی وہی ملے گا جو ہمارے لیے ہیں۔ اور تم پر بھی وہی کام لازم ہوں گے جو ہم پر لازم ہیں۔ اور اگر تم انکار کرتے ہو تو تم جزیہ ادا کروہاتھ سے اور چھوٹے بن کر رہو اور اگر تم اس کا بھی انکار کرو گے تو ہم تم سے قتال کریں گے۔ پس ان لوگوں نے سب باتوں کا انکار کردیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے کہا : دشمن کے سامنے ڈٹ جاؤ اور لڑائی شروع کردو۔