حدیث نمبر: 34797
٣٤٧٩٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبي وإسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: انتهيت إلى أبي جهل يوم (يدر) (١) وقد ضُربتْ رجله وهو صريع، وهو يذب الناس عنه بسيفه، فقلت: الحمد للَّه الذي أخزاك يا عدو اللَّه، فقال: هل هو إلا رجل قتله قومه، فجعلت أتناوله بسيف لي غير طائل فأصيبت يده فندر سيفه فأخذته فضربته (به) (٢) حتى برد (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں غزوہ بدر کے دن ابو جہل ملعون کے پاس پہنچا اس حال میں کہ اس کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ تھا۔ اور وہ خود کو لوگوں سے بچا رہا تھا اپنی تلوار کے ذریعے۔ پس میں نے کہا : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے ذلیل و رسوا کیا اے اللہ کے دشمن۔ وہ کہنے لگا : کوئی آدمی نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی قوم نے اس کو مار ڈالا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اپنی چھوٹی سی تلوار کے ذریعہ اس کو ٹٹولنا شروع کیا تو میں نے اس کے ہاتھ کو ہلایا اور اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اس کی تلوار کو پکڑ لیا۔ اور اس کو مار دیا۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔

حواشی
(١) في [ب]: (بدر).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) منقطع؛ أبو عبيدة لا يروي عن أبيه عبد اللَّه بن مسعود، أخرجه أحمد (٤٢٤٦)، وأبو داود (٣٧٢٢)، وأبو يعلى (٥٢٣١)، والشاشي (٦٣٢)، والطبراني (٨٤٦٨)، والبيهقي ٦/ ٦٢، والطيالسي (٣٢٨)، والبزار (١٧٧٥/ كشف).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 34797
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34797، ترقيم محمد عوامة 33280)