مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما قالوا: فيمن استعان بالسلاح من الغنيمة باب: اس شخص کے بارے میں جو غنیمت کے اسلحہ سے مدد لیں بعض لوگوں نے یوں کہا
٣٤٧٩٧ - حدثنا وكيع قال: ثنا أبي وإسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي عبيدة قال: قال عبد اللَّه: انتهيت إلى أبي جهل يوم (يدر) (١) وقد ضُربتْ رجله وهو صريع، وهو يذب الناس عنه بسيفه، فقلت: الحمد للَّه الذي أخزاك يا عدو اللَّه، فقال: هل هو إلا رجل قتله قومه، فجعلت أتناوله بسيف لي غير طائل فأصيبت يده فندر سيفه فأخذته فضربته (به) (٢) حتى برد (٣).حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں غزوہ بدر کے دن ابو جہل ملعون کے پاس پہنچا اس حال میں کہ اس کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی اور وہ نیم مردہ تھا۔ اور وہ خود کو لوگوں سے بچا رہا تھا اپنی تلوار کے ذریعے۔ پس میں نے کہا : سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تجھے ذلیل و رسوا کیا اے اللہ کے دشمن۔ وہ کہنے لگا : کوئی آدمی نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی قوم نے اس کو مار ڈالا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے اپنی چھوٹی سی تلوار کے ذریعہ اس کو ٹٹولنا شروع کیا تو میں نے اس کے ہاتھ کو ہلایا اور اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اس کی تلوار کو پکڑ لیا۔ اور اس کو مار دیا۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا۔