مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما يكره أن ينتفع به من المغنم باب: ان روایات کا بیان جو اس بارے میں ہیں کہ مال غنیمت سے نفع اُٹھانا اپنی ذات کے لیے مکروہ ہے
٣٤٧٤٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي مرزوق مولى تجيب (١) قال: غزونا مع رويفع بن ثابت الأنصاري نحو المغرب ففتحنا قرية يقال لها: جربة، قال: فقام فينا خطيبا فقال: إني لا أقول فيكم إلا ما سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول فينا يوم خيبر: "من كان يؤمن باللَّه واليوم الآخر فلا يركبن دابة من فيء المسلمين حتى إذا أعجفها ردها فيه، ولا يلبس ثوبًا من فيء المسلمين حتى إذا أخلقه رده فيه" (٢).حضرت ابو مرزوق رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو حضرت نجیب رحمہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ کہ ہم لوگ حضرت رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ مغرب کی جانب جہاد کے لیے گئے۔ پس ہم نے ایک بستی فتح کی جس کا نام جربہ تھا تو آپ رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : بیشک میں نہیں کہوں گا تمہارے حق میں کوئی بات مگر جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن ہمارے بارے میں فرمائی۔ فرمایا : جو شخص ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر تو اس کو چاہیئے کہ وہ مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے کسی جانور پر سوار مت ہو یہاں تک کہ جب اسے لاغر کردیا تو پھر مال غنیمت میں لوٹا دیا۔ اور نہ ہی مسلمانوں کے مال غنیمت میں سے کوئی کپڑا پہنے ۔ یہاں تک کہ جب اس کو پرانا کردیا تو اس کو مال غنیمت میں لوٹا دیا۔