حدیث نمبر: 34701
٣٤٧٠١ - حدثنا إسحاق بن منصور قال: ثنا إسرائيل (عن إبراهيم بن مهاجر) (١) عن إبراهيم عن الأسود قال: لقيني كعب ببيت المقدس فقال: من أين ⦗٢٠٢⦘ جئت؟ فقلت: من مسجد الكوفة، (فقال) (٢): لأن أكون جئتُ من حيث جئتَ أحب إلي من أن أتصدقه بألفي دينار، أضع كل دينار منها في يد كل مسكين، ثم حلف إنه لوسط الأرض كقعر الطست.مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ مجھے بیت المقدس میں ملے اور پوچھا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ میں نے کہا : کوفہ کی جامع مسجد سے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں بھی وہاں سے آیا ہوں۔ جہاں سے تم آئے ہو۔ اور وہ جگہ مجھے اس بات سے زیادہ پسندید ہ ہے کہ میں دو ہزار دینار صدقہ کروں اور ان میں سے ہر ایک دینار کو ہر مسکین کے ہاتھ میں دوں۔ پھر قسم اٹھا کر ارشاد فرمایا : بیشک وہ مسجد زمین کے بالکل درمیان میں ہے جیسا کہ تھال کا پیندا ہوتا ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: (قال).