مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما جاء في بني أسد باب: ان روایات کا بیان جو بنو اسد کے بارے میں منقول ہیں
٣٤٦٩١ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عكرمة قال: جاء علي بسيفه فقال: ⦗١٩٨⦘ (خذيه حميدا) (١)، فقال: النبي ﷺ: "إن كنتَ أحسنتَ القتالَ اليومَ فقد أحسنه سهل بن حنيف وعاصم بن ثابت والحارث بن (الصمة) (٢) وأبو دجانة" (٣).حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی تلوار لائے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اس تعریف شدہ کو پکڑو۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : آج کے دن تم نے شاندار قتال نہیں کیا تحقیق شاندار لڑائی تو سھل بن حنیف، عاصم بن ثابت، حارث بن الصمبہ اور ابو دجانہ رضی اللہ عنہ م نے لڑی۔ اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن ارشاد فرمایا : کون شخص اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ پکڑے گا ؟ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں پکڑوں گا۔ اور تلوار پکڑی پھر اس کے ساتھ لڑے یہاں تک کہ تلوار کو واپس لائے اس حال میں کہ و ہ ٹیڑھی ہوچکی تھی۔ اور فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں !۔