مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما جاء في قيس باب: ان روایات کا بیان جو قبیلہ قیس والوں کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 34665
٣٤٦٦٥ - حدثنا محمد بن الحسن قال: ثنا أبو (الحريش) (١) عن زيد بن محمد قال: كنت في غزاة مع مسلمة بن عبد الملك (بالترك) (٢) فهدده رسل خاقان وكتب إليه: لألقينك (بحزاورة) (٣) الترك، فكتب إليه مسلمة: إنك تلقاني (بحزاورة) (٤) الترك وأنا ألقاك (بحزاورة) (٥) العرب، -يعني قيسًا (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت مسلمہ بن عبد الملک رحمہ اللہ کے ساتھ ترک کے کسی غزوہ میں تھا ۔ تو خاقان بادشاہ کے قاصد نے ان کو بہت دھمکیاں دیں اور ان کو خط لکھا۔ میں تمہارے ساتھ ملوں گا ترک کے طاقتور نوجوانوں کے ساتھ۔ تو اس کے جواب میں حضرت مسلمہ رحمہ اللہ نے اس کو خط لکھا : بیشک تم ہم سے ملو گے ترک کے طاقتوروں کے ساتھ، میں تم سے ملوں گا عرب کے طاقتوروں کے ساتھ یعنی قبیلہ قیس والوں کے ساتھ۔
حواشی
(١) في [هـ]: (الجرش)، وفي [س]: (الحريس).
(٢) في [أ، ب]: (بالبرك).
(٣) في [أ، ب]: (بجراورة).
(٤) في [أ، ب]: (بجراورة).
(٥) في [أ، ب]: (بجراورة).
(٦) مجهول؛ أبو الحريش مجهول.