مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل الكوفة باب: ان روایات کا بیان جو کوفہ والوں کی فضیلت میں ذکر کی گئیں
٣٤٦٢٣ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن ربيع بن عميلة عن حذيفة قال: اختلف رجل من أهل الكوفة ورجل من أهل الشام فتفاخرا، فقال الكوفي: نحن أصحاب يوم القادسية ويوم كذا وكذا ويوم كذا، وقال الشامي: نحن أصحاب اليرموك ويوم كذا ويوم كذا، فقال حذيفة: كلاهما لم يشهده اللَّه هلك عاد وثمود، (و) (١) لم يؤامره اللَّه فيهما لما أهلكهما، وما من قرية (أحرى) (٢) أن (تدفع) (٣) عنها عظيمة -يعني الكوفة (٤).حضرت ربیع بن عمیلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوفہ کے ایک آدمی اور شام کے ایک آدمی کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ یہ دونوں آپس میں فخر کرنے لگے۔ کوفی نے کہا : ہم تو جنگ قادسیہ کے دن والے لوگ ہیں ۔ اور شامی کہنے لگا : ہم تو جنگ یرموک والے ہیں اور فلاں فلاں دن والے لوگ ہیں۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اللہ نے عاد اور ثمود کی ہلاکت میں ان دونوں کو گواہ نہیں بنایا تھا اور نہ ہی ان دونوں سے اس بارے میں مشورہ کیا تھا اور کوئی بستی بھی اس لائق نہیں کہ اس شہر جتنی اس کی فضیلت بیان کی جائے، یعنی کوفہ جتنی۔