مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في جرير بن عبد الله ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کی گئیں
٣٤٥١٦ - حدثنا الفضل بن دكين عن يونس (بن) (١) أبي إسحاق عن المغيرة ابن شبيل بن عوف عن جرير قال: لما دنوت من المدينة (أنخت) (٢) راحلتي ثم ⦗١٤٧⦘ حللت عيبتي ولبست حلتي، قال: فدخلت ورسول اللَّه ﷺ يخطب، فسلمت على النبي ﷺ فرماني الناس بالحدق، فقلت لجليسي: يا عبد اللَّه أذكر رسول اللَّه ﷺ من أمري شيئًا؟ قال: نعم، ذكرك بأحسن الذكر، قال: فبينما رسول اللَّه ﷺ يخطب إذ عرض له في خطبته فقال: "أنه سيدخل عليكم من هذا الفج أو من هذا الباب من خير (ذوي) (٣) يمن على وجهه مسحة ملك"، قال جرير: فحمدت اللَّه على ما أبلاني (٤).حضرت مغیرہ بن شبل بن عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب میں مدینہ منورہ کے قریب ہوا تو میں نے اپنی سواری کو بٹھایا پھر میں نے اپنا گندا جوڑا اتارا۔ اور صاف جوڑا پہنا۔ پھر میں مدینہ میں داخل ہوا اس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا تو لوگوں نے بڑی عزت کی نگاہ سے مجھے دیکھا اس پر میں نے اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے معاملہ کے بارے میں کچھ ذکر فرمایا تھا ؟ اس شخص نے کہا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے تمہارا بہت اچھا تذکرہ فرمایا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک عنقریب تمہارے پاس اس کشادہ راستہ سے یا اس دروازے سے ایک شخص آئے گا جو بہت خیر و برکت والا ہوگا اور اس کے چہرے پر فرشتہ کی سی چھاپ ہوگی۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ پس میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے اس انعام سے نوازا۔