حدیث نمبر: 34511
٣٤٥١١ - حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل عن قيس قال: اشترى أبو بكر بلالًا بخمس أواق ثم أعتقه، قال: فقال له بلال: يا أبا بكر، إن كنت إنما اعتقتني لتتخذني (خادمًا) (١) فاتخذني (خادمًا) (٢)، وإن كنت (إنما) (٣) أعتقتني للَّه فدعني ⦗١٤٦⦘ فأعمل للَّه، قال: فبكى أبو بكر ثم قال: بل أعتقتك للَّه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال کو پانچ اوقیہ چاندی کے عوض خریدا پھر آزاد کردیا۔ اس پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اگر تم نے مجھے اس لیے آزاد کیا کہ تم مجھے اپنا خزانچی بنا لو، پس تم مجھے چاہو تو خزانچی بنا لو، اور اگر تم نے مجھے آزاد کیا ہے اللہ کے لیے تو مجھے فارغ چھوڑ دو تاکہ میں اللہ کے لیے عمل کروں۔ راوی کہتے ہیں پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ سن کر رو پڑے پھر فرمایا : بلکہ میں نے تمہیں اللہ کے لیے آزاد کردیا۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (حاولا)، وفي [جـ، م]: (خازنًا).
(٢) في [أ، ب]: (حاولا)، وفي [جـ، م]: (خازنًا).
(٣) سقط من: [ب].