مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في عائشة ﵂ باب: ان روایات کا بیان جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مذکور ہیں
٣٤٤٥٣ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن عبد الرحمن بن أبي الضحاك عن عبد الرحمن بن محمد بن زيد بن جدعان قال: حدثنا أن عبد اللَّه، بن صفوان وآخر معه، أتيا عائشة فقالت عائشة: يا فلان هل سمعت حديث حفصة؟ فقال: نعنم يا أم المؤمنين، فقال لها عبد اللَّه بن صفوان: وما ذاك يا أم المؤمنين؟ قالت: خلال فيَّ (تسع) (١) لم تكن في أحد من الناس إلا ما آتى اللَّه مريم ابنة عمران، واللَّه ما أقول هذا أني أفتخر على (صواحبي) (٢) قال: عبد اللَّه بن صفوان: وما هي يا أم المؤمنين؟ قالت: نزل المك بصورتي، وتزوجني رسول اللَّه ﷺ لسبع سنين، وأهديت إليه لتسع سنين، وتزوجني بكرًا لم يشركه فيَّ ⦗١٢٦⦘ أحد من الناس، وأتاه الوحي وأنا وإياه في لحاف واحد، وكنت من أحب الناس إليه، ونزل في آيات من القرآن كادت الأمة تهلك فيهن، ورأيت جبريل ولم يره أحد من نسائه غيري، وقبض في بيتي لم يله أحد غير الملك وأنا (٣).حضرت عبد الرحمن بن محمد بن زید فرماتے ہیں کہ ہمیں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن صفوان اور ان کے ساتھ ایک دوسرا آدمی یہ دونوں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے فلاں ! کیا تو نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سنی ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! ام المؤمنین، اس پر حضرت عبد اللہ بن صفوان رحمہ اللہ نے ان سے پوچھا : اے ام المؤمنین ! وہ حدیث کیا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : مجھ میں نو خصلتیں ایسی ہیں جو لوگوں میں سے کسی میں بھی نہیں ہیں۔ سوائے ان کے جو اللہ نے حضرت مریم بنت عمران کو عطا فرمائیں۔ اللہ کی قسم ! میں یہ نہیں کہتی کہ میں اپنی ساتھیوں پر فخر کرتی ہوں عبداللہ بن صفوان نے پوچھا : اے ام المؤمنین ! وہ خصلتیں کیا ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فرشتہ میری تصویر لے کر اترا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی جب کہ میں سات سال کی تھی اور مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا نو سال کی عمر میں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مجھ باکرہ سے شادی کی۔ اور اس میں میرا کوئی بھی شریک نہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی اس حال میں کہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی بستر میں ہوتے۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھی۔ اور میرے بارے میں قرآن کی چند آیات اتریں۔ اور قریب تھا کہ امت ان کے بارے میں ہلاک کردی جاتی۔ اور میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا اور میرے علاوہ کسی عورت نے بھی ان کو نہیں دیکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں ہوا جہاں میرے اور فرشتہ کے سوا کوئی نہیں تھا۔