حدیث نمبر: 34413
٣٤٤١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن حارثة بن مضرب قال: قرئ علينا كتاب عمر: أما بعد، (فإنني قد) (١) بعثت إليكم عمار بن ياسر أميرًا، وعبد اللَّه بن مسعود (مؤدبًا) (٢) ووزيرًا، وهما من النجباء من أصحاب محمد ﷺ (٣) وآثرتكم بابن أم عبد على نفسي (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضر ت حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگوں کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط پڑھ کر سنایا گیا۔ جس میں لکھا تھا : حمد و صلوۃ کے بعد، پس تحقیق میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو تمہاری طرف امیر بنا کر بھیجا اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو استاذ اور وزیر بنا کر ۔ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شریف ساتھیوں میں سے ہیں۔ اور میں نے حضرت ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کے معاملہ میں خود پر دوسروں کو ترجیح دے دی۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (فقد).
(٢) في [أ، ب]: (مؤذنًا).
(٣) سقط من: [م].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34413
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٢٥٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34413، ترقيم محمد عوامة 32903)