حدیث نمبر: 34396
٣٤٣٩٦ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان (عن زكريا) (١) عن عامر قال: دخل العباس على النبي ﷺ فلم ير عنده أحدا فقال له ابنه: لقد رأيت عنده رجلًا، فقال العباس: يا رسول اللَّه، زعم ابن عمك أنه رأى عندك رجلًا، فقال عبد اللَّه (٢): نعم والذي أنزل عليك الكتاب، قال: "ذاك جبريل" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی بھی شخص کو نہیں دیکھا حالانکہ ان کے بیٹے نے ان سے کہا تھا کہ تحقیق میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو دیکھا۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا چچا زاد بھائی کہتا ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی آدمی کو دیکھا ہے۔ تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے۔ جی ہاں ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب اتاری۔ وہ جبرائیل تھے۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [ب]: زيادة (فقال عبد اللَّه)، وفي [أ]: زيادة (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34396
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ عامر الشعبي تابعي، وأخرجه متصلًا من حديث ابن عباس أحمد (٢٦٧٩)، وابنه (٢٨٤٨)، والطيالسي (٢٧١٨)، وعبد بن حميد (٧١١)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٥٢١، والطبراني (١٠٥٨٤)، والبيهقي في دلائل النبوة ٧/ ٧٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34396، ترقيم محمد عوامة 32886)