مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كره أنا يتوكأ الرجل على الشيء وهو يصلى باب: جو حضرات نماز پڑھتے ہوئے ٹیک لگانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے
حدیث نمبر: 3438
٣٤٣٨ - حدثنا ابن فضيل عن حصين (عن أبي حازم) (١) عن مولاته (قالت) (٢): كنت في أصحاب الصفة (و) (٣) كان لنا (حبال) (٤) نتعلق بها إذا فترنا ونعسنا في الصلاة، (وبسط) (٥) نقوم عليها من غلظ الأرض، قالت: (فأتانا) (٦) أبو بكر فقال: اقطعوا هذه الحبال وافضوا إلى الأرض (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حازم کی ایک مولاۃ کہتی ہیں کہ میں اصحابِ صفہ میں سے تھی۔ ہمارے پاس رسیاں تھیں جب ہم نماز میں تھک جاتیں یا ہمیں نیند آجاتی تو ان رسیوں کو پکڑ لیتی تھیں اور ہمارے پاس چٹائیاں بھی ہوتیں تھیں جن پر ہم زمین کی سختی سے بچنے کے لئے کھڑی ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا کہ ان رسیوں کو کاٹ دو اور زمین پر نماز پڑھو۔
حواشی
(١) في [أ]: سقط ما بين القوسين.
(٢) في [أ]: (قال).
(٣) سقط في: [هـ].
(٤) في [أ]: (جبال)، وفي [ك]: (خبال).
(٥) في [أ]: (وسط).
(٦) في [أ، جـ، ك]: (فأتى).
(٧) مجهول؛ لجهالة مولاة أبي حازم.