مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما جاء في الحسن والحسين ﵄ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا جعفررضی اللہ عنہ بن ابی طالب کی فضیلت میں منقول ہیں
٣٤٣٦٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرني جرير بن حازم عن محمد بن عبد اللَّه بن أبي يعقوب عن عبد اللَّه بن شداد عن أبيه قال: دعي رسول اللَّه ﷺ لصلاة فخرج وهو حامل حسنًا (أو) (١) حسينًا، فوضعه إلى جنبه فسجد بين ظهراني صلاته سجدة أطال فيها، قال أبي: فرفعت رأسي من بين الناس فإذا الغلام على ظهر رسول اللَّه ﷺ فأعدت رأسي فسجدت، فلما سلم رسول اللَّه ﷺ قال له القوم: يا رسول اللَّه لقد سجدت في صلاتك هذه سجدة ما كنت تسجدها، أفكان يوحي إليك؟ قال: "لا، ولكن ابني ارتحلني فكرهت أن أعجله حتى يقضي حاجته" (٢).حضرت عبد اللہ بن شداد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پہلو میں بٹھایا ہوا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی پیٹھوں کے درمیان اپنی نماز کا سجدہ ادا کیا اور بہت لمبا سجدہ کیا ۔ میرے والد نے کہا : کہ میں نے تمام لوگوں کے درمیان سے سر اٹھایا۔ تو دیکھا ایک بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ تو میں نے دوبارہ اپنا سر سجدہ میں رکھ دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز میں ایسا سجدہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی زندگی بھر نہیں کیا۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی وحی کی جار ہی تھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میرا بیٹا مجھ پر سوار ہوگیا تھا۔ تو میں نے ناپسند کیا کہ میں جلدی سے اٹھ جاؤں یہاں تک کہ وہ اپنی خواہش پوری کرلے۔