مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما حفظت في الزبير بن العوام ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو مجھے سیدنا زبیر بن العوّام کی فضیلت میں حفظ ہیں
٣٤٣٣٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن عروة قال: (إن) (١) أول رجل سل سيفًا في اللَّه الزبير، (نفخت) (٢) نفخة: أخذ رسول اللَّه ﷺ، فخرج الزبير (يشق) (٣) الناس بسيفه ورسول اللَّه ﷺ بأعلى مكة فقال: "ما لك يا زبير" قال: أخبرت أنك أُخذتَ، قال: فصلى عليه ودعا له ولسيفه (٤).حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : بیشک سب سے پہلا آدمی جس نے اللہ کے راستہ میں تلوار سونتی وہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ خبر اڑا دی گئی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا گیا ہے۔ ! پس حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نکلے کہ وہ لوگوں کو اپنی تلوار سے چیرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے اونچے مقام پر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اے زبیر رضی اللہ عنہ ! تجھے کیا ہوا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے خبر ملی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ لیا گیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں دعائے خیر کی اور ان کی تلوار کے لیے بھی دعا فرمائی۔