مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٩٣ - حدثنا عفان قال: ثنا جعفر بن سليمان قال: حدثني يزيد الرشك عن مطرف عن عمران بن حصين قال: بعث رسول اللَّه ﷺ سرية واستعمل عليهم عليًا، فصنع علي شيئا أنكروه، فتعاقد أربعة من أصحاب رسول اللَّه صلى اللَّه عليه (وسلم) (١) (أن يعلموه) (٢)، (وكانوا إذا قدموا من سفر بدأوا برسول اللَّه ﷺ) (٣)، فسلموا عليه ونظروا إليه، ثم ينصرفون إلى رحالهم قال: فلما قدمت السرية سلموا على رسول اللَّه ﷺ (٤) فقام أحد الأربعة فقال: يا رسول اللَّه ألم تر أن ⦗٧٦⦘ عليًا صنع كذا وكذا، فأقبل إليه رسول اللَّه يعرف الغضب في وجهه فقال: "ما تريدون من علي ما تريدون من علي؟ علي مني وأنا من علي، وعلي ولي كل مؤمن بعدي" (٥).حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کردیا۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ ایسا کام کیا جس کو لوگوں نے ناپسند کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے چار لوگوں نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کریں گے۔ اور یہ لوگ جب سفر سے واپس آگئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلانے کا ارادہ کیا۔ پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور ان کی طرف دیکھا پھر لوگ اپنے کجاو وں کی طرف پلٹ گئے۔ راوی کہتے ہیں : کہ جب سارے لشکروا لے آگئے ۔ اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کرلیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی کیا رائے ہے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہ انہوں نے یہ کام کیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ علی رضی اللہ عنہ سے کیا چاہتے ہو ؟ ! تم لوگ علی رضی اللہ عنہ سے کیا چاہتے ہو ؟ ! علی رضی اللہ عنہ مجھ سے ہیں اور میں علی رضی اللہ عنہ سے ہوں اور علی رضی اللہ عنہ میرے بعد ہر مومن کے دوست ہیں۔