حدیث نمبر: 34291
٣٤٢٩١ - حدثنا أبو الجواب قال: حدثنا يونس بن أبي إسحاق عن (أبي إسحاق) (١) (البراء) (٢) بن عازب قال: بعث رسول اللَّه ﷺ جيشين، على أحدهما علي بن أبي طالب، وعلى الآخر خالد بن الوليد، فقال: (إن كان (قتال) (٣) فعلي ⦗٧٥⦘ على الناس"، فافتتح (علي) (٤) حصنًا، فاتخذ جارية لنفسه، فكتب خالد (بسوأته) (٥)، فلما قرأ رسول اللَّه ﷺ الكتاب قال: "ما تقول في رجل (يحب اللَّه ورسوله) (٦)، ويحبه اللَّه ورسوله؟ " (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لشکر بھیجے جن میں سے ایک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور دوسرے لشکر پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ، پھر ارشاد فرمایا : اگر لڑائی ہو تو اس صورت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں پر امیر ہوں گے۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ کو فتح کرلیا۔ اور ایک باندی کو اپنے لیے خاص کرلیا اس پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے خط لکھ کر اس بات کی حضور ﷺ کو خبر دی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط پڑھا تو ارشاد فرمایا : تم کیا کہتے ہو ایسے شخص کے بارے میں جو اللہ اور ا س کے رسول ﷺ کو محبوب رکھتا ہے ۔ اور اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس کو محبو ب رکھتے ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [ب]: (إسرائيل).
(٣) في [أ، ب، م]: (قتل).
(٤) في [أ، ب]: (عليًا).
(٥) في [أ، هـ]: (يسوء به).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) معلول، أكثر الروايات أن خالدًا رجع عند مجيء علي ﵄، أخرجه الترمذي (١٧٠٤)، والروياني (٣٠٩)، واللالكائي (٢٦٣٦)، وابن عساكر ٤٢/ ١٩٦.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34291
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34291، ترقيم محمد عوامة 32782)