مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤٢١٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى قال: سمعت عبد اللَّه بن عامر يقول: لما (تشعب) (١) الناس في الطعن على عثمان قام أبي فصلى من الليل، (ثم نام) (٢) قال: (فقيل) (٣) له: قم (فاسأل) (٤) اللَّه (أن) (٥) يعيذك من الفتنة التي أعاذ منها عباده الصالحين، قال: فقام (٦) فمرض، قال: فما (رئي) (٧) خارجًا حتى مات (٨).یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عامر رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن وتشنیع کے بارے میں لوگوں میں آراء مختلف ہونے لگیں تو میرے والد کھڑے ہوئے اور رات کی نماز پڑھی پھر وہ سو گئے۔ راوی کہتے ہیں : کہ پس ان کو کہا گیا : کھڑے ہو کر اللہ سے سوال کرو کہ وہ تمہیں بھی اس فتنہ سے محفوظ رکھے جیسے اس نے اپنے نیک بندوں کو اس سے محفوظ رکھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے قیام کیا پھر وہ بیمار ہوگئے ۔ پھر ان کو باہر نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔