حدیث نمبر: 34214
٣٤٢١٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى قال: سمعت عبد اللَّه بن عامر يقول: لما (تشعب) (١) الناس في الطعن على عثمان قام أبي فصلى من الليل، (ثم نام) (٢) قال: (فقيل) (٣) له: قم (فاسأل) (٤) اللَّه (أن) (٥) يعيذك من الفتنة التي أعاذ منها عباده الصالحين، قال: فقام (٦) فمرض، قال: فما (رئي) (٧) خارجًا حتى مات (٨).
مولانا محمد اویس سرور

یحییٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عامر رحمہ اللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر طعن وتشنیع کے بارے میں لوگوں میں آراء مختلف ہونے لگیں تو میرے والد کھڑے ہوئے اور رات کی نماز پڑھی پھر وہ سو گئے۔ راوی کہتے ہیں : کہ پس ان کو کہا گیا : کھڑے ہو کر اللہ سے سوال کرو کہ وہ تمہیں بھی اس فتنہ سے محفوظ رکھے جیسے اس نے اپنے نیک بندوں کو اس سے محفوظ رکھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے قیام کیا پھر وہ بیمار ہوگئے ۔ پھر ان کو باہر نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (شغب)، وفي [هـ]: (نشب).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (فقل).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (فسل).
(٥) في [أ، ب]: سقطت.
(٦) في [هـ]: زيادة (فصلى).
(٧) في [أ، ب]: (رأى).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34214
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد الأحمر صدوق، أخرجه الحاكم ٣/ ٤٠٣ (٥٥٣٤)، والبخاري في الأوسط ١/ ٦٤، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٧٨، وابن سعد ٣/ ٣٨٧، وابن عساكر ٢٥/ ٣٢٨، وابن شبه (١٩٤٥)، ونعيم في الفتن (٤٤١)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٠٤، وابن أبي الدنيا في المنامات (٢١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34214، ترقيم محمد عوامة 32707)