مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
٣٤١٨٢ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل (عن) (١) زُبَيْد قال: لما حضرت أبا بكر الوفاة أرسل إلى عمر ليستخلفه قال: فقال الناس: (استخلف) (٢) علينا ⦗٣٥⦘ فظًا غليظًا، فلو ملكنا كان أفظ وأغلظ، ماذا تقول لربك إذا أتيته وقد (استخلفته) (٣) علينا قال: تخوفوني بربي! أقول: اللهم أمّرتُ عليهم خير أهلك (٤).اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبید رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا تاکہ ان کو خلیفہ بنادیں۔ تو لوگ کہنے لگے ! آپ رضی اللہ عنہ ہم پر سخت مزاج کو خلیفہ بنادیں گے۔ پس اگر وہ ہمارے مالک ہوگئے تو وہ مزید سخت شدید مزاج والے ہوجائیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہاپنے رب کو کیا جواب دیں گے جب آپ ان کے پاس جائیں گے کہ آپ نے ان کو ہم پر خلیفہ بنادیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھے میرے رب سے خوف دلاتے ہو ؟ ! میں جواب دوں گا : اے اللہ ! میں نے ان لوگوں پر تیرے سب سے بہترین بندے کو امیر بنادیا۔