حدیث نمبر: 34182
٣٤١٨٢ - حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل (عن) (١) زُبَيْد قال: لما حضرت أبا بكر الوفاة أرسل إلى عمر ليستخلفه قال: فقال الناس: (استخلف) (٢) علينا ⦗٣٥⦘ فظًا غليظًا، فلو ملكنا كان أفظ وأغلظ، ماذا تقول لربك إذا أتيته وقد (استخلفته) (٣) علينا قال: تخوفوني بربي! أقول: اللهم أمّرتُ عليهم خير أهلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبید رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد بھیج کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا تاکہ ان کو خلیفہ بنادیں۔ تو لوگ کہنے لگے ! آپ رضی اللہ عنہ ہم پر سخت مزاج کو خلیفہ بنادیں گے۔ پس اگر وہ ہمارے مالک ہوگئے تو وہ مزید سخت شدید مزاج والے ہوجائیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہاپنے رب کو کیا جواب دیں گے جب آپ ان کے پاس جائیں گے کہ آپ نے ان کو ہم پر خلیفہ بنادیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ مجھے میرے رب سے خوف دلاتے ہو ؟ ! میں جواب دوں گا : اے اللہ ! میں نے ان لوگوں پر تیرے سب سے بہترین بندے کو امیر بنادیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (بن).
(٢) في [أ، هـ]: (أتستخلف).
(٣) في [أ، ب، جـ، م]: (استخلفت).
(٤) منقطع؛ زييد لم يدرك ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34182
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34182، ترقيم محمد عوامة 32676)