مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يصلي (بعض) صلاته لغير القبلة، من قال: (يعتد بها) باب: ایک آدمی قبلے کے علاوہ کسی اور طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے اور اسے بعد میں علم ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3418
٣٤١٨ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن القعقاع بن يزيد قال: صليت (وأنا أعمى) (١) لغير القبلة فسألت إبراهيم فقال: يجزئك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت قعقاع بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے اور ایک نابینا نے قبلے سے ہٹ کر کسی اور طرف نماز پڑھی، تو میں نے ابراہیم سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہاری نماز ہوگئی۔
حواشی
(١) في [ط، هـ]: (أنا وعمي)، وفي [أ]: (أنا وأعمى)، وانظر: الجرح والتعديل ٧/ ١٣٧، وتاريخ الإسلام ٨/ ٥١٩.