مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
٣٤١٧٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: جاء رجلان إلى عبد اللَّه فقال أحدهما: يا أبا عبد الرحمن كيف تقرأ هذه الآية؟ فقال له عبد اللَّه: من أقرأك؟ قال: أبو حكيم المزني، وقال للآخر: من أقرأك؟ قال: أقرأني عمر، قال: اقرأ كما أقرأك عمر، ثم بكى حتى سقطت دموعه في الحصا، ثم قال: إن عمر كان حصنًا حصينًا على الإسلام، يدخل فيه ولا يخرج منه، فلما مات عمر انثلم الحصن، فهو يخرج منه ولا يدخل فيه (١).حضرت زید بن وھب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے پھر ان دونوں میں سے ایک کہنے لگا : آپ اس آیت کو کیسے پڑھتے ہیں ؟ تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا : تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ؟ اس نے کہا : حضرت ابو حکیم المزنی نے ۔ اور آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے سے پوچھا : تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ؟ اس نے کہا : مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم پڑھو جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تمہیں پڑھایا ، پھر رونے لگے یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کے آنسو کنکریوں پر گرنے لگے۔ پھر فرمایا : بلاشبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام کے مضبوط و مستحکم قلعہ تھے جس میں اسلام داخل ہوا اور ان سے نکلا نہیں۔ پس جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا تو اس قلعہ میں شگاف پڑگیا پس وہ اس سے نکل گیا اور اس میں داخل نہیں ہوا۔