مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عمر بن الخطاب ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں نقل کی گئی ہیں
٣٤١٦٨ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثني كهمس قال: حدثني عبد اللَّه بن شقيق قال: حدثني الأقرع -شك كهمس: لا أدري الأقرع المؤذن هو أو غيره- قال: أرسل عمر إلى الأسقف قال: فهو يسأله وأنا قائم عليهما أظلهما من الشمس فقال: هل تجدني في كتابكم؟ فقال: صفتكم وأعمالكم، قال: (فما) (١) تجدني؟ قال: أجدك قرنا من حديد، قال: فنقط عمر وجهه وقال: قرن حديد؟ قال: (أمين) (٢) شديد، فكأنه فرح بذلك، قال: فما تجد بعدي؟ قال: خليفة صدق يؤثر (أقربيه) (٣) قال: (فقال) (٤) عمر: يرحم اللَّه ابن عفان، قال: فما تجد بعده؟ قال: صدع حديد، قال: وفي يد عمر شيء يقلبه (٥) فنبذه (فقال) (٦): يا (دَفْرَاه) (٧) -مرتين أو (ثلاثًا) (٨) قال: فلا تقل ذلك يا أمير المؤمنين فإنه خليفة مسلم أو رجل صالح، ولكنه يستخلف والسيف مسلول و (الدم) (٩) مهراق، قال: ثم التفت إلي ثم قال: الصلاة (١٠).حضرت عبد اللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت اقرع رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : حضرت کھمس رحمہ اللہ کو شک تھا فرمایا : میں نہیں جانتا کہ اقرع سے مراد مؤذن ہیں یا کوئی اور … بہرحال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قاصد بھیج کر بڑے پادری کو بلا کر پوچھا اس حال میں کہ میں ان دونوں کے پاس کھڑا ہو کر ان دونوں پر سورج کی دھوپ سے سایہ کررہا تھا، کیا تمہاری کتابوں میں ہمارا ذکر موجود ہے ؟ تو اس پادری نے کہا : تمہارے اوصاف اور تمہارے اعمال کا ذکر ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : میرے بارے میں تمہیں کیا کچھ پتہ ہے ؟ اس نے کہا : آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں لوہے کے سینگ کا ذکر پاتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چہرے میں غصہ کے آثار نمودار ہوئے اور فرمایا : لوہے کا سینگ ؟ اس نے کہا : مراد ہے کہ بہت زیادہ امانت دار ہو، تو آپ رضی اللہ عنہ کو اس سے بہت خوشی ہوئی۔ فرمایا : میرے بعد کا کیسے ذکر ہے ؟ اس نے کہا : سچا خلیفہ ہوگا جو اپنے قریبی رشتہ داروں کو ترجیح دے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ ابن عفان پر رحم کرے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : ان کے بعد کا کیسے ذکر ہے ؟ بہت شدید شگاف ہوگا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے آپ رضی اللہ عنہالٹ پلٹ رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو پھینک دیا اور دو یا تین مرتبہ فرمایا : افسوس ذلیل شخص پر ! اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! آپ ایسے مت کہیے۔ یقینا وہ مسلمان خلیفہ ہوں گے اور نیک آدمی ہوں گے۔ لیکن انہیں خلیفہ بنایا جائے گا اس حال میں کہ تلوار لٹکی ہوئی ہوگی اور خون بہایا جا چکا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ رضی اللہ عنہ نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : نماز کا وقت ہے۔